بجلی نرخوں میں اضافے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہیں،کراچی چیمبر

125

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں 1.09 روپے سے 2.80 روپے تک اضافے کا اعلان کراچی کی صنعتوں کے لیے صدمے سے کم نہیں۔ اس اقدام سے تجارت و صنعت کو یہ ایک اور دھچکا لگا ہے جو پہلے ہی کورونا کے وبائی مرض کے دوران لاک ڈاؤن کے نتیجے میں شدید نقصانات سے دوچار ہیں جبکہ شہر میں تباہ کن بارشوں کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔صدر کے سی سی آئی نے ایک بیان میں کراچی کے صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 1.09 روپے سے 2.89 روپے فی یونٹ اضافے کے ای سی سی کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا کیونکہ کراچی والے حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے شدید مالی پریشانی کا شکار ہیں اور اس سے پہلے کورونا کے مہلک مرض کی تباہ کاریوں کا شکار رہے۔انہوں نے مشیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ پر زور دیا کہ وہ بجلی کے نرخوں میں اس ناجائز اوربے موقع اضافے کو فوری طور پر واپس لیں کیونکہ بجلی نرخوںمیں اضافے سے کراچی والوں کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی جو کورونا وائرس کے وبائی امرض کے تباہ کن اثرات سے نکلنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی طرح اس شہر کے باسیوں کو حالیہ موسلا دھار بارشوں سے کافی نقصانات اٹھانا پڑے جن میں عمارتیں ،گودام،مشینری اور دیگر سامان سمیت ان کے اثاثوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا جس کا تخمینہ بارش کا پانی صاف ہونے اورمعمولات زندگی بحال ہونے کے بعد لگانا باقی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ای سی سی اور اعلیٰ حکام نے ایک بار پھر بجلی کے نرخ میں اضافے کی منظوری دے کر کراچی والوں کو درپیش پریشانیوں اور نقصانات کو یکسر نظرانداز کیا ہے کیونکہ ای سی سی نے پہلے ہی اس سال جولائی میں نرخوں میں 2.89 روپے کا اضافہ کیا تھا۔