کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافہ ستم رسیدہ عوام پر مزید ظلم ہے ،حافظ نعیم

136

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی کے شہریوں کے لیے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں 1.89روپے اضافے کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کراچی کے ستم رسیدہ اورگمبھیر مسائل کے شکار عوام کے ساتھ مزید ظلم و نا انصافی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ واپس لیا جائے ۔ کے الیکٹرک کو ٹیرف میں
اضافہ کرکے اسے نوازنے کے بجائے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کا پابند کیا جائے ۔ ایسے وقت میں جب کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے اور اسے قومی تحویل میں لینے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں حکومت اسے سہولت اور تحفظ فراہم کر رہی ہے ۔ کے الیکٹرک سے یہ کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ اس نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے معاہدے کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری کیوں نہیں کی ؟ اپنے ترسیلی نظام کو ابھی تک بہتر کیوں نہیں بنایا ؟حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کورونا وبا اور سخت گرمی و حبس کے موسم میں بھی شہریوں کو بد ترین لوڈشیڈنگ سے دوچار کرنا ، حالیہ بارشوں میں تقریباً پورے شہر کو بجلی سے محروم کردینا ، کرنٹ لگنے سے اموات اور اووربلنگ کی بڑھتی ہوئی شکایات کے باوجود وفاقی حکومت کی طرف سے کے الیکٹرک کی خواہش پر ٹیرف میں اضافہ نہ صرف سمجھ سے بالا تر ہے بلکہ کراچی کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔ عوام اس اضافی مالی بوجھ کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان نے بھی کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناکامی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی کارکردگی بہتر کرنے کا کہا تھا ۔ نیپرا نے حالیہ لوڈشیڈنگ کرنے پر 20کروڑ روپے جرمانہ عاید کیا ۔ گزشتہ سال نیپرا نے بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے اموات میں سے اکثر کا ذمے دار کے الیکٹرک کو قرار دیا تھا اور اس سے قبل بھی کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا نے فیصلے دیے لیکن کے الیکٹرک کی ان امور پر گرفت کرکے اور اس کے خلاف عملاً کوئی تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے وفاقی حکومت نے ٹیرف میں اضافہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح کے الیکٹرک کی سرپرستی کر رہی ہے اور اسے عوامی مشکلات اور پریشانیوں سے کوئی سرو کار نہیں ہے ۔