پنجاب میں بلدیاتی فنڈز بحال ،20 ارب روپے قرض اسکیم کا اعلان

65

لاہور (نمائندہ جسارت) وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب میں بلدیاتی فنڈز بحال اور 20 ارب روپے کی قرض اسکیم کا اعلان کیا ہے‘ انہوںنے کہا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین اکتوبر میں چلے گی‘ ہیلتھ اور صنعت و تجارت کے سیکٹرزکے لیے106 ارب روپے مختص کیے ہیں‘ اسکولز ایجوکیشن کے بجٹ میں14 ارب کا اضافہ کیا‘ پولیس میں 10 ہزار بھرتیوں کی منظوری دی ‘ 7 یونیورسٹیاں قائم کر رہے ہیں۔وہ 90 شارع قائداعظم پر صوبائی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے کا اضافہ کیا‘ مقامی حکومتوں کا شیئر10 فیصد بڑھایا‘ پنجاب بھر میں لوکل گورنمنٹ کے منجمد فنڈز کو بحال کردیا گیا ہے‘ اسکولز ایجوکیشن کے بجٹ میں 14 ارب روپے کا اضافہ کر کے382 ارب روپے تک بڑھایا ہے‘ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کر کے اپنے وعدے کو نبھایا ہے‘ آب
پاک اتھارٹی کے تحت صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ2 ارب روپے کی لاگت شروع کر رہے ہیں‘ انہوں نے پنجاب اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے تحت آسان شرائط پر قرضہ اسکیم کا اعلان کیا ہے اورکہا کہ اس مقصد کے لیے20 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوٹا کے زیر اہتمام نوجوانوں کی معاشی خود مختاری کے لیے ہنرمند نوجوان پروگرام کے تحت سالانہ ایک لاکھ طلبہ کو ٹریننگ دے رہے ہیں‘ دیہات میں تقریباً 2200 کلومیٹر سڑکیں بنائیں‘صوبہ بھر میں لوکل گورنمنٹ کے فنڈ کی بحالی سے عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل ہوگی‘ نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی منظوری اور اس کا نفاذ ہوچکاہے‘ اب لوکل گورنمنٹ سربراہان کا براہ راست انتخاب ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو ای کریڈٹ اسکیم کے تحت قرضے دیے جا رہے ہیں‘ شعبہ صحت میں30 ہزار میرٹ پر بھرتیاں کی گئی ہیں‘ 3500 بیڈز پر مشتمل 6 نئے اسپتال بنارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب پناہ گاہ اتھارٹی کا قیام عمل میں لائیں گے‘ انرجی کے بحران پر قابو پانے اور مہنگی بجلی سے نجات کے لیے متبادل توانائی انرجی کے منصوبوں پر کام جاری ہے‘ پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کا قیام عمل میں آچکا ہے اور 144 ارب کے 28 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جاچکی ہے‘لاہوراورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کو اکتوبر تک شروع کردیں گے‘ ہم نے اس منصوبے پر کام نہیں روکا بلکہ اس ٹرین کو چلانے کے لیے سبسڈی بھی دینا پڑے گی‘خیبر پختونخوا کی طرح پنجاب میں بھی صحت انصاف کارڈ کی یونیورسل کوریج چاہتے ہیں‘ پنجاب میں مہنگائی کے مستقل سدباب کے لیے پرائس کنٹرول اتھارٹی بنا رہے ہیں۔