پاکستان اقوام متحدہ میں توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ اٹھائے ،سراج الحق

109

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے فرانسیسی میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ کی جانب سے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے چھاپنے اور سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور عالم اسلام سے متحد ہونے اور او آئی سی کی طرف سے اس قبیح حرکت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے صرف مذمت کافی نہیں ، حکومت کو آگے بڑھ کر اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اٹھانا اور تمام مذاہب کی مقدس ہستیوں کی توہین کو عالمی جرم قرار دینے کا مطالبہ کرناچاہیے ۔ تمام مذاہب کی کتب اور عبادت گاہوں کے احترام کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر کا حصہ ہے مگر اسلامی شعائر ،قرآن پاک اور پیغمبر اسلام ؐ کے معاملے میں اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں مرکزی ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم اور نائب امرا و نائب قیمین بھی شریک تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اسلام دشمن قرآن پاک کی توہین اور پیغمبر اسلام ، خاتم النبیینؐکے خاکے شائع کر کے عالمی امن کو تباہ اور دنیا کو عالمی جنگ کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔فرانسیسی صدر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے اس کی مذمت نہ کرنا قابل تشویش ہے اور ان کی طرف سے اس پر خاموشی کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ وہ پس پردہ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت اہل بیت اور صحابہ کرام ؓ کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔ شرپسند عناصر پاکستان کے اسلامی تشخص ، قومی یکجہتی اور ملی وحدت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں اور پاکستان کو بھی یمن اور عراق بنانا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ تمام مسالک کے رہنمائوں اور معتبر شخصیات کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہو جاتا تو ان شر انگیزیوں کا مستقل طور پر سد باب ہوسکتا تھا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی نے محرم کے آغاز میں منصورہ میں علما و مشائخ کانفرنس اسی مقصد کے لیے منعقد کی تھی تاکہ قومی وحدت اور یکجہتی کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام اور ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنایا جاسکے ۔ سینیٹر سراج الحق نے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں مگر حکمران کہیں نظر نہیں آتے ۔ حکومت ہر معاملے میں بیانات اور اعلانات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایمر جنسی حالات سے نمٹنے کے لیے ادارے موجود ہیں مگر ان کی کارکردگی صفر ہوچکی ہے ۔