لیکچرار اور پروفیسرز کو ٹائم اسکیل نہ دینے کیخلاف درخواست کی سماعت

153

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے صوبے بھر کے 9 ہزار لیکچرار اور پروفیسرز کو ٹائم اسکیل نہ دیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری کالجز سے سمری پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سر براہی میں 2رکنی بینچ نے سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرارز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے سیکرٹری کالجز سے استفسار کیا کہ کب تک سمری پر عمل ہوگا؟ جس پر سیکرٹری کالجز کا کہنا تھا کہ پروفیسرز کے دو گروپوں کی جانب سے الگ الگ مطالبات ہیں اور
دونوں گروپوں کی مطالبات پر دو سمری وزیر اعلیٰ کو بھیج دی گئی ہیں،دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ عدالت کو یہ بتائیں سمری پر کتنا عمل ہوا؟، آپ کو مزید کتنی مہلت چاہیے، سمری پر عمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیکرٹری کالجز عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، 2010ء سے کیس عدالت میں زیر سماعت ہے، رواں سال 4 مارچ کو اس معاملے پر کمیٹی بھی بنی جبکہ 22 سال میں پروفیسرز کو ایک بار بھی ترقی نہیں دی گئی، کالجز کے 9 ہزار لیکچرز اور پروفیسرز ٹائم اسکیل سے محروم ہیں، لہٰذا استدعا ہے کہ ٹائم اسکیل دینے کا حکم دیا جائے بعد ازاں عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری کالجز سے سمری پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 6اکتوبر تک ملتوی کردی۔