لبنان ،وزیراعظم کی نامزدگی کے بعد پر تشدد مظاہرے

131
بیروت: نئے وزیراعظم کی نامزدگی پر شروع ہونے والے احتجاج میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہو رہی ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے بعد دارالحکومت بیروت میں ایک بار پھر مظاہرے شروع ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق شہر کے وسط میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ اس دوران مظاہرین نے سرکاری احاطوں میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی اور بزور طاقت دروازے کھول کر ان میں داخل ہوگئے۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے لبنانی سیاست دانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اگر آیندہ 3 ماہ میں ملک کو ایک نئی سمت کی طرف لے جانے میں ناکام رہتے ہیں تو ان پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔وہ اقتصادی بحران سے دوچار لبنان میں فرانس کے مرتب کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے بیروت کی بندرگاہ پر 4 اگست کے تباہ کن دھماکوں کے بعد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں لبنان کا یہ دوسرا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ آیندہ 3 ماہ لبنان میں حقیقی تبدیلی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو حکمران طبقے کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی، جب کہ بین الاقوامی مالیاتی بیل آؤٹ پیکیج بھی روک دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نتائج حاصل کرنے اور اصلاحات کے لیے لبنان آئے ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے اصلاحات کے حوالے سے قابل اعتماد وعدے چاہتے ہیں، جن میں 6 سے 12 ماہ کے دوران پارلیمانی انتخابات کے لیے حتمی تاریخ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ ماکروں کی آمد سے چند گھنٹے قبل ہی لبنانی صدر میشال عون نے جرمنی میں تعینات سفیر مصطفی ادیب کو نیا وزیراعظم نامزد کرکے حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی تھی۔ نامزد وزیراعظم نے بدھ کے روز بیروت کے دھماکے سے متاثر علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں امدادی سرگرمیوں میں مصروف رضاکاروں سے ملاقات کی۔انہوں نے رضاکاروں سے گفتگو میں کہا کہ ریاست ان کے ساتھ مل کر بیروت کی تعمیر نو کرنا چاہتی ہے۔واضح رہے کہ بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے کے بعد سے اب تک لبنان کے کسی اعلیٰ سرکاری عہدے دار نے متاثر علاقوں کا دورہ نہیں کیا تھا۔ جب کہ اس حادثے کے بعد لبنانی وزیراعظم حسان دیاب اور ان کی کابینہ مستعفی ہوگئی تھی۔