جزیرۂ عرب میں یہود کی نقب اور خیبر واپسی کا خواب

564

یہود سیدنا ابراہیمؑ کے فرزند اور پیغمبر خدا سیدنا اسحاقؑ کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہزاروں انبیا اور رسول ؑ مبعوث فرمائے، تاہم ان کی موجودہ شریعت اور دین سیدنا موسیٰؑ سے منسوب ہے۔ یہودیت بنیادی طور پر ایک آسمانی مذہب تھا، لیکن اس کے پیروکاروں نے اسے ایک نسلی یا نسبی دین بنا دیا۔ یہود کا آبائی وطن ارضِ کنعان تھا۔ مؤرخین کے مطابق یہ تیرہویں صدی قبل مسیح کے دوران جزیرۂ عرب میں داخل ہوئے۔ کتب تاریخ میں ان کی اس ہجرت کے کئی اسباب نقل کیے گئے ہیں، تاہم اسلامی مصادر کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ان کے نزدیک جزیرۂ عرب میں آخری نبی کے ظہور کا عقیدہ تھا۔ جزیرۂ عرب میں ان کی آبادیاں یثرب (مدینہ منورہ)، خیبر، فدک، وادیٔ غریٰ، تیما، یمن، نجران، عمان، حلیحل، صحار اور مشرقی علاقوں میں تھیں۔ البتہ مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے انجام کے باعث ان میں یثرب اور خیبر کے یہود نے زیادہ شہرت پائی۔
مکہ مکرمہ میں اسلام کا ظہور ہوا اور نبی آخر الزمانؐ سیدنا اسماعیلؑ کی اولاد میں سے تشریف لائے، تو یہود نے نسلی تعصب کے باعث انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا۔ آپؐ نے مدینہ منورہ ہجرت کی، تو انہوں نے آپؐ کے ساتھ بقائے باہمی کا ایک سماجی وسیاسی معاہدہ کیا، لیکن اس کے باوجود دل سے اسلام دشمنی پر آمادہ رہے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں جاری رکھیں۔ نتیجتاً ان کے تینوں قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بالترتیب مدینہ منورہ سے جلاوطن یا قتل کردیا گیا۔ ان میں سے اکثر خیبر اور کچھ شام چلے گئے۔ پھر رسول اللہؐ نے 7 ہجری میں خیبر کی جانب پیش قدمی فرمائی اور شان دار فتح کے بعد یہود کو جزیے کی ادائیگی پر وہاں آباد رہنے کی اجازت دے دی۔
رسول اللہؐ نے اپنے وصال سے ایک سال قبل فرمایا تھا کہ: ’’اگر میں آیندہ برس تک حیات رہا، تو یہود ونصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے ہر صورت بے دخل کردوں گا، یہاں تک کہ اس سرزمین پر ایک بھی کافر نہیں چھوڑوں گا‘‘۔ (مسند احمد) لیکن آپؐ کو اس کا موقع نہیں مل سکا۔ اس لیے سیدنا عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں یہود کو خیبر سے جلاوطن کردیا، کیوں کہ یہ قوم جہاں بھی رہتی ہے، سازشوں کے جال بنتی رہتی ہے۔ جس طرح جنات میں آگ سے بنے ہونے کے باعث شرارت ہے، اسی طرح ان میں خدا کی مسلسل نافرمانی اور سرکشی کے باعث شرانگیزی پیدا ہوگئی ہے۔
اسلامی ریاست کے ہاتھوں مسلسل دھکیلے جانے کے باعث انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ جزیرۂ عرب میں فی الحال ان کا کوئی مستقبل نہیں، اس لیے یہ لوگ شام، ایران اور ہندوستان ہجرت کرگئے تھے۔ البتہ بہت تھوڑی تعداد میں یمن اور مشرقی ساحل پر ان کا وجود باقی رہا، جو اتنا غیراہم تھا کہ اکثر تاریخی مصادر اس حوالے سے خاموش ہیں۔
بلادِ عرب پر ان کے دھاوے کا آغاز صہیونی تنظیم کے قیام کے بعد ہوا۔ یہ اشکنازی یعنی مغربی یہود کی تنظیم تھی، جس نے اپنی قوم کے لیے ایک وطن کے قیام کا منصوبہ بنایا، جس کا تصور تھیوڈور ہیرزل نے پیش کیا۔ اشکنازی یہودِ مشرق کی طرح نہ تھے کہ انہیں اس سرزمین سے کوئی لگاؤ تھا، بلکہ وہ اس مقصد کے لیے کسی بھی براعظم میں اپنا ملک بنانے کو تیار تھے۔ البتہ محل وقوع کے باعث فلسطین ان کی ترجیح تھی۔ برطانوی سامراج نے انہیں ارضِ فلسطین پر اسرائیل قائم کرکے دے دیا، تاکہ اپنے زیر قبضہ ہر ملک سے نکلنے کی استعماری پالیسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایک ایسا تنازع موجود رہے، جو دہائیوں تک خطے کے لیے دردِ سر بنا رہے۔
یہود نے فلسطین میں ناجائز وطن پانے کے لیے مذہبی جذبات کا سہارا لیا، جس کے باعث ناصرف صہیونی ریاست کا قیام مذہبی بنیاد پر ہوا، بلکہ وہاں کے عوام کو بھی اسی لبادے میں قومیت اور وطنیت سکھائی گئی۔ مذہبی جذبات پر مبنی ان کے خودساختہ نظریات میں سے ایک دریائے نیل سے دریائے فرات تک اپنی ریاست کا قیام بھی ہے، جن میں جزیرۂ عرب خاص طور پر شامل ہے، کیوں کہ ان کا گمان ہے کہ وہ خیبر اور مدینہ منورہ واپس لوٹ کر رسول اللہؐ اور سیدنا عمرؓ کے ہاتھوں ملنے والی تاریخی رسوائی کا بدلہ لیں گے۔
دوسری جانب مسلمانوں نے قیامِ اسرائیل کے خلاف پہلے ہی دن سے بھرپور ردعمل دیا۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے، کیوں کہ اسرائیل کو مسلمانوں کی سرزمین پر قبضہ کرکے بنایا اور دنیا بھر سے اشکنازی یہود کو یہاں لاکر بسایا گیا ہے۔ دوسرا فلسطین میں مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام قبلہ اول موجود ہے اور مسلمان کسی صورت اسے کفار میں گھرا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے اسلامی ممالک نے برسوں اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، لیکن عالمی صہیونی طاقتوں نے اسے قابل قبول بنانے کے لیے سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
رفتہ رفتہ مسلمانوں کے کئی ممالک نے اسے تسلیم کرلیا، لیکن تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک کا اس سے تعلقات قائم نہ کرنا، بین الاقوامی صہیونی طاقتوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے قبائلی سوچ اور اپنی ثقافت کا ادراک رکھنے والے خلیجی ممالک کے بانی رہنماؤں کی موت کا انتظار کیا۔ ان لوگوں کے دنیا سے جاتے ہی اسرائیل نواز عالمی قوتیں بھرپور انداز میں متحرک ہوئیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا، جب کہ سلطنت عمان اور بحرین اس کے نقش قدم پر چلنے کو بے تاب ہیں، اور سعودی عرب شاید شاہ سلمان کی دنیا سے رخصتی کا منتظر ہے۔
متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ مسلمان ممالک کی حکومتیں، کاسہ لیس دانش ور اور عالمی ایجنڈے کے لیے خدمات انجام دینے والے مختلف شعبوں کے کارکن اس پیش رفت میں مصنوعی رنگ بھر کر اسے خوش نما بنانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک خطرناک اقدام ہے، کیوں کہ اس کے ذریعے حق وباطل اور ظالم ومظلوم کے درمیان کھنچی لکیر کو دھندلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یقین نہیں آتا تو پیر کے روز تل ابیب سے ابوظبی پہنچنے والے طیارے کی پیشانی ہی دیکھ لیں، جس پر تین زبانوں میں ’’امن‘‘ لکھا ہے۔ کوئی ان سے پوچھنے والا ہے کہ ہزاروں فلسطینیوں کو شہید اور لاکھوں کو بے وطن کرنے والی صہیونی ریاست کس منہ سے مسلمانوں کے کسی ملک میں ’’امن‘‘ کا راگ الاپتے ہوئے وارد ہورہی ہے۔
اس ساری پیش رفت میں اور بھی بہت سی باتیں باعث تشویش ہیں، خاص طور پر اسرائیلی پرواز میں جیرڈ کشنر کی موجودگی۔ واضح رہے کہ دنیا میں اسرائیل کی مضبوط ترین لابی امریکا میں ہے۔ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پی اے سی) ان میں نمایاں ترین ہے، جس کے ایک لاکھ سے زائد ارکان اور وسیع ترین فنڈنگ ہے۔ کسی بھی امریکی صدر کو اپنے انتخاب سے قبل اس کی کانگریس میں شرکت کرکے اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی بھی واضح کرنی ہوتی ہے، کیوں کہ امریکی کانگریس میں اس تنظیم کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔
موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس کانگریس میں حاضری دی تھی، لیکن شاید یہود نے بہ طور امریکی صدر ان کا انتخاب ایک دہائی قبل ہی کرلیا تھا، کیوں کہ ارب پتی یہودی جیرڈ کشنر نے ٹرمپ کی بیٹی ایوانیکا سے شادی کررکھی ہے۔ جیرڈ کشنر مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کا مشیر بھی ہے اور اسے خطے میں اسرائیل سے متعلق ہونے والی تمام سیاسی پیش رفتوں کا منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔ پیر کے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی اترنے والی اسرائیلی پرواز میں یہی جیرڈ کشنر موجود تھا اور وہ دورانِ پرواز خوشی سے لبریز وڈیوز شیئر کرتا رہا۔ جیرڈ کشنر کی اس خوشی نے مجھے نجانے کیوں خیبر سے یہود کی جلاوطنی یاد دلائی۔ ایسا لگا کہ یہود کی یہ نسل مسلمانوں کا مذاق اڑا رہی ہے کہ تمہارے پیغمبرؐ نے ہمیں اس سرزمین سے دور رکھنے کا حکم دیا تھا اور تم ہمیں سرخ قالین بچھا کر خوش آمدید کہہ رہے ہو۔