ترک صدر بحیرہ روم میں یورپی دھمکیوں کے آگے ڈٹ گئے

614

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے وسیع تر ذخائر کی مزید تلاش کےحصول کے منصوبے پر کام تیز کردیا، جس کے بعد یورپی ممالک نے ترکی پر پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق ترک صدر نے بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے وسیع تر ذخائر کی مزید تلاش کےحصول میں تمام رکاوٹوں اور دھمکیوں کا مکمل نظر انداز کردیا ہے جبکہ یورپ کے کئی ممالک ترکی پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔

گزشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت بحیرہ روم میں گیس کی تلاش کے مشن میں توسیع کے اعلان پر قائم ہے،ہمیں یہ کام ہرصورت میں‌ کرنا ہے۔

ترک صدر نے تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی فوج کو ہدایت کردی ہے جبکہ  بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے منصوبے پر انقرہ اور پڑوسی ملک یونان کے درمیان سخت کشیدگی عروج پر ہے ۔

دوسری جانب عرب دنیا کےکچھ ممالک نے ترکی کی مخالفت میں یونان  اور فرانس کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر پہلے ہی اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ “اورچ رئیس” اب 12 ستمبر تک مشرقی بحیرہ روم کے ایک متنازعہ علاقے میں سروے کرے گا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ترک صدر نے دعویٰ کہا تھا کہ اس نے زیرسمندر گیس کے 320 بلین کیوبک میٹر ذخائر دریافت کیے ہیں۔