چارلی ہیبڈو کا دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان

421

پیرس: فرانس کے بدنامِ زمانہ میگزین چارلی ہیبڈو نے ایک بار پھر پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکےدوبارہ شائع کرنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق  سال 2015 میں میگزین چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کرنے والے 13 مرد و خواتین کیخلاف مقدمے کی کارروائی کاآغاز ہونے والا ہے، اسی مناسبت سے ایک مرتبہ پھر گستاخانہ خاکے شایع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکےدوبارہ اشاعت  کا اعلان کیا ہے جس کے بعد مسلم ممالک اور دنیا بھر میں فرانسیسی حکومت سمیت میگرین پر  شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ایسا کرنا مذہبی منافرت کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہوگا جو کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری جانب میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کا حوالےدیتے ہوئے کہا گیا ہےکہ یہ ہمارے لیے تاریخ کا درجہ رکھتے ہیں اور تاریخ کو نہ مٹایا جاسکتا ہے اور نہ دوبارہ لکھا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ  اس سے قبل بھی فرانس کے میگزین چارلی ہیبڈو نے 2015ء میں پہلی بار  پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ شایع کیے تھے جس کے خلاف پوری دنیا کے مسلمانوں نےغم و غصے کا اظہار اور شدید احتجاج کیا تھا۔

گستاخانہ خاکے شایع کرنے کے بعد 5 سال قبل اس میگزین کی عمارت پر حملہ ہوا تھا جس میں 3 حملہ آوروں سمیت ادارتی عملے کے 12 افراد مارے گئے تھے، حملہ کرنے والے شیرف اور سعید کوچی نے القاعدہ سے تعلق کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری گزشتہ روز  کہا تھا کہ فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہیں، جان بوجھ کر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے عمل کو آزادی اظہار رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔