شفاف مردم شماری اور 3 ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں ،حافظ نعیم

102
کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ صاف شفاف مردم شماری کے بعد3 ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، SLBA(سندھ لوکل باڈیز ایکٹ)کو فوراً اور مکمل تبدیل کر کے آنے والی شہری حکومت کو بااختیار بنایاجائے، سی سی آئی اوراسٹیک ہولڈر پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، بلدیاتی الیکشن کے لیے حد بندی اور حلقہ بندی جلد مکمل کی جائے اورآفت زدہ علاقوں کے متاثرین کی زر تلافی سے مددکی جائے،وفاقی بجٹ پر نظر ثانی کرکے کراچی کے لیے کیے گئے مختص ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے،کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لے کر فرانزک آڈٹ کرایاجائے۔ ہم کراچی کے شہریوں کے ساتھ مل کر اُن کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت جلد تحریک چلائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امرا کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، مسلم پرویز، راجا عارف سلطان، ڈپٹی سیکرٹریز عبد الرزاق خان، یونس بارائی،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ اس وقت کراچی کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے موجودہ حکومتی نمائندے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں،لوگ سوال کرتے ہیں کہ حالیہ مون سون بارشوں میں وہ کہاں تھے؟، پیپلز پارٹی کے جیالے، پی ٹی آئی کے ٹائیگرز اوربلدیاتی حکومت کے ورکرز کہاں تھے؟،پھر عوام نے دیکھاکہ کراچی سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی کے 14 ارکان قومی اسمبلی اور 23 ایم پی ایز نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا،وفاق نے کراچی کے ترقیاتی بجٹ میں اتنے پیسے بھی نہیں دیے جتنے کے الیکٹرک سے کمائے ہیں،مسائل کے حل کے لیے ناکام جماعتوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کا مطلب مزید ناکامی ہے،پی ٹی آئی کے نمائندے 80 فیصد ڈیفنس اور کلفٹن میں رہتے ہیں،ڈیفنس اور کلفٹن میں رہنے والے نمائندے جب وہاں کے لیے کچھ نہیں کرسکے تو باقی شہریوں کے لیے کیا کریں گے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اگر اسی طرح جوڑ توڑ کر کے انہی لوگوں کو اقتدارمیں لائیں گے تو کراچی کبھی ترقی نہیں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ شہر منی پاکستان ہے۔ دنیا کے 150 ملکوں سے بڑا شہر ہے،حال یہ ہے کہ سب سے بڑے شہر کی بلدیہ ہی بااختیار نہیں ہے،صوبہ سندھ کی حکومت نے کراچی کی ترقی کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا،12 سال سے ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساتھ برابر کی شریک رہی ہے،مئیر کراچی کو بھی 4 سال کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کی آبادی کو ٹھیک طریقے سے شمار نہیں کیا جارہا،کراچی میں مردم شماری کے 5 فیصد بلاکس کھول کر صورتحال کا ٹھیک اندازہ کیا جاسکتا ہے،المیہ یہ ہے کہ وفاق کے تحت اداروں میں ووٹرز کی تعداد زیادہ اور مردم شماری میں تعداد کم ظاہر کی گئی ہے،کراچی کی بااختیار شہری حکومت ہونی چاہیے جو صوبے اور وفاق کو توجواب دے لیکن کراچی کے فیصلے کرنے میں بااختیار ہو۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حالیہ بارشوں میں سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی،اورنگی،نیا ناظم آباد، ڈیفنس،پی ای سی ایچ ایس،نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، ملیر کے گوٹھوں سمیت متعدد علاقے پانی میں ڈوب گئے،ڈیفنس میں بیسمنٹ میں موجود پراپرٹی ڈیلرز کے دفاتر میں پانی جمع ہونے سے پراپرٹی کی اصلی دستاویزات اور فرنیچر مارکیٹ سمیت دیگر مارکیٹوں میں پانی جمع ہونے سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا،جس پر حکومت کی جانب سے صرف زبانی جمع خرچ کے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکاروں نے ہمیشہ کی طرح متاثرہ علاقوں کے دورے کیے اور متاثرین کی امداد کی،پکے پکائے کھانے،پینے کا پانی پہنچایا اور ڈوبے ہوئے متاثرین کو ریسکیو کیااور ہر ممکن مدد کی۔