ملک کو فرقہ وارانہ تصادم کی طرف دھکیلا جارہا ہے،مفتی منیب

225

کراچی (نمائندہ جسارت) رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کو کسی داخلی یا بین الاقوامی سازش کے تحت فرقہ ورانہ تصادم کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ایک طرف اتحاد، اخوت اور رواداری کے پیغامات دیے جاتے اور دوسری طرف زبانوں سے نفرت اور فتنہ انگیزی کے شعلے اگلے جاتے ہیں، اب یہ منافقت نہیں چل پائے گی۔ ہم ایک بار پھر
وزیرِ اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کو براہِ راست متوجہ کر رہے ہیں کہ صورت حال ناقابلِ برداشت ہوگئی ہے۔ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے ممتاز علمائے اہلسنت مفتی محمد جان نعیمی، مفتی محمد رفیق حسنی،مفتی محمد الیاس رضوی،صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی،علامہ رضوان نقشبندی،مفتی عابد مبارک، علامہ سید مظفر شاہ، مولانا بلال سلیم قادری، ثروت اعجازقادری اور تاجر برادری کی نمائندہ شخصیات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت تسلسل کے ساتھ عام مجالس میں صحابہ کرام کی توہین کا گستاخانہ اور مجرمانہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے اسلام آباد میں بھری مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓکی تکفیر کی بات کی گئی اور کراچی میں نماز ظہرین کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر صحابہ کرام پر لعن طعن کی گئی، پاکستان کی تاریخ میں ماضی میں ایسی ناپاک جسارت کرنے کی کسی کوہمت نہیں ہوئی۔ ایک طرف اتحاد، اخوت اور رواداری کے پیغامات دیے جائیں اور دوسری طرف زبانوں سے نفرت اور فتنہ انگیزی کے شعلے اگلے جائیں، اب یہ منافقت نہیں چل پائے گی۔ وزیرِ اعظم کی ذمے داری ہے کہ اپنی صفوں کا جائزہ لیں اور پتاچلائیں کہ ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کے لیے حکومت کی صفوں میں موجود کون سے عناصر مصروفِ عمل ہیں۔ فوری تدارک نہ کیا گیا تو پہلے مرحلے پر ہم کراچی میں تاریخ کی سب سے بڑی پرامن ریلی کا اہتمام کریں گے اور اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔مفتی منیب کا کہنا تھا کہ بارشوں کے باعث اہل کراچی پر قیامت گزری لیکن وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں الزام تراشی میں مصروف رہی۔وزیر اعظم کراچی کی تاریخی تباہی کے ازالے اور بحالی کے لیے تاریخی پیکج کا اعلان کریں۔