شکارپور :صوبائی وزیر نے بارش کے پانی کی عدم نکاسی کا نوٹس لے لیا

96

شکارپور (نمائندہ جسارت) شہر میں حالیہ دنوں میں بارشوں کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر کھڑے برساتی پانی کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر امتیاز احمد شیخ نے دورہ کیا۔ لکھیدر ، ہزاردار ، جمانی ہال، ٹیکسی اسٹینڈ، پلازہ سینما اور مسند پور روڈ پر موجود برساتی پانی سے شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے، ہم شہر کے اندر چار نئے پمپنگ اسٹیشن قائم کر رہے ہیں ، جو شہر سے بارش اور نکاسی آب کے پانی کی پریشانی کو حل کرے گی،نکاسی آب پائپ لائنوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ امتیاز احمد شیخ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر امتیاز احمد شیخ نے شکارپور شہر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شکارپور نوید رحمن لاڑک اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون شکارپور علی رضا انصاری اور پبلک ہیلتھ انجینئر آغا نعیم پٹھان اور نیاز احمد میرانی بھی موجود تھے، صوبائی وزیر نے دورے کے دوران بیگاری کینال روڈ پر نکاسی آب کے پائپ لائن کے اخراج کا سخت نوٹس لیا اور پائپ لائن کی مرمت کرواکر پائپ لائن کو تالاب تک لے کر جایا جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نکاسی آب کا میگا پروجیکٹ جو 53 کروڑ روپے کی لاگت سے بن رہا ہے شہر کے اندر چار نئے پمپنگ اسٹیشنز شامل ہیں جن میں بلاول ٹائون، شاہی باغ ، پٹھان کالونی ، بیڈ روڈ اور نیو اناج مارکیٹ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے کچھ دن قبل بارش کا پانی لکھیدر ، ہزاریدر، جمانی ہال ، ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب تاخیر سے اخراج ہوا جس کی وجہ سے شہریوں کو کسی حد تک تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر ہم لکھیدر سے 24 انچ ڈایا کی نئی رائزنگ میں نکاسی آب پائپ لائن میں توسیع کر رہے ہیں جو مذکورہ علاقوں سے بارش اور نکاسی آب کا پانی نکال دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پائپ لائن کو چوڑا کرتے ہوئے سڑک کی چوڑائی کو مرحلہ وار بنانا چاہیے اور کام جاری رکھنا چاہیے تاکہ شہریوں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزیر توانائی نے بتایا کہ محکمہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو یہ شکایات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ لوگوں نے زرعی زمین کے استعمال کے لیے نکاسی آب کے پائپ لائنوں کو استعمال کر رہے ہیں اور نکاسی آب کے پائپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جو بہت افسوسناک ہے۔ صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر شکارپور نوید رحمن لاڑ کو ہدایت کی کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ صوبائی وزیر امتیاز احمد شیخ نے ڈپٹی کمشنر شکارپور کو ہدایت کی کہ وہ نیو فوجداری پمپنگ اسٹیشن کی توسیع کے لیے پبلک ہیلتھ کو اراضی دیں تاکہ اس پمپنگ اسٹیشن کو مزید فعال بنایا جاسکے اور اس پمپنگ اسٹیشن پر پبلک ہیلتھ آفس بھی قائم کیا جائے۔صوبائی وزیر توانائی نے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شکارپور کو ہدایت کی کہ وہ انٹر کالونی کے پیور بلاک روڈ کے نیچے سپورٹ دیکر چوڑا کریں اور نکاسی آب کے حالات کو بہتر بنائیں،سندھ میں غیر سیاسی ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے جائیں گی ، جن سے سرکاری ذمے داریاں پوری طرح سے لی جائیں گیں، موجودہ بارش کے بعد ہونے والے نقصانات کا جلد ازالہ کیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔صوبائی وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے سیپکو کی جانب سے جاری 16 گھنٹے کے لوڈ شیڈنگ شیڈول کا سختی سے نوٹس لیا اور سیپکو چیف کو ایک مراسلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ سمیت شکارپور میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کو کم کیا جائے سندھ کے عوام سے انتہائی ناجائز کیا جارہا ہے اور ان کی حب الوطنی پاکستانی ہونے کے باوجود بھی۔ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ شکارپور سمیت سندھ بھر میں لوڈشیڈنگ کا وقت کم کیا جائے اور ایکسپریس لائنوں پر 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ حالانکہ عوام بجلی کے بل بھی جمع کروا رہی ہے۔