انتظامیہ کی عدم توجہی ، سکھر کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

85

سکھر(نمائندہ جسارت) مووآن پاکستان کے ضلعی صدر عارف علی قریشی نے شہر کے بیشتر علاقوں میں قلت آب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب نمائندوں اور متعلقہ انتظامیہ کی لاپروائی و عدم توجہی کے باعث سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھرکے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی تسلسل کے ساتھ فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاسکا، دریائے سندھ کے کنارے آباد ہونے کے باوجود سکھر کے شہری پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے پریشان ہیں، کئی علاقوں میں پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے رہائشی دور دراز کے علاقوں سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں،شہریوں کو درپیش مسائل کا حل اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا موو آن پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہر میں پانی کی قلت و دیگر درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فیصل میمن، نعیم خان، شاہد صدیقی، زبیر شیخ، حاجی یوسف، محمد شفیق و دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔عارف علی قریشی کا کہنا تھا کہ صاف پانی کی فراہمی کے لئے فنڈز مختص ہونے کے باوجود شہریوں کا تاحال دیرینہ مسئلہ حل نہیں کیا جاسکا جس کے باعث سکھر کے علاقے واریتڑ ، پولیس لائن، غریب آباد، شکارپور روڈ، بندھانی محلہ، آدم شاہ کالونی و دیگر میں قلت آب کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے، اس حوالے سے رہائشیوں کی جانب سے متعدد بار متعلقہ افسران و منتخب نمائندوں کو شکایات بھی کی گئی ہیں، لیکن کوئی بھی افسر و نمائندہ مسئلہ حل کرنے کیلیے تیار نہیںتاہم موو آن پاکستان کے پلیٹ فارم سے شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کیلیے تمام تر ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔