حیدرآباد :لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر احتجاج

99

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) وائس فارمسنگ پرسن آف سندھ‘ سندھ سجاگی فورم‘ سندھ یوتھ ایکشن کمیٹی کی جانب سے گم کیے گئے افراد کی آزادی کے لیے اولڈ کیمپس سے حیدرآباد پریس کلب تک احتجاجی مارچ کیا گیا۔ مارچ میں شامل سیاسی ‘ سماجی کارکنوں‘ طلبہ ‘ خواتین‘ ادیب‘ قلم کار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے نمائندے شریک تھے۔ انہوں نے لاپتا ہونے والے افراد کی تصاویر بھی اٹھائی ہوئی تھیں۔ اس موقع پر وائس فار مسنگ پرسن آف سندھ کے کنوینر سورٹ لوہار نے کہاکہ فوری طور پرلاپتا کیے گئے افراد کو رہا کیاجائے۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانوں کو اگر ملک عزیز ہے تو بلوچوں ‘ سندھیوں ‘ پختونوں کو ان کا حق دیں لیکن شاید وہ ملک چلانا نہیں چاہتے ۔ انہوںنے کہاکہ سندھ کی تقسیم کی باتیں کی جارہی ہیں گم کیے گئے افراد میں صرف سندھی بولنے والے ہی نہیں اردو بولنے والے بھی شامل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سندھ کی تقسیم کی باتیں کرنے والے کسی خوش فہمی میں نہ رہیںان کے ناپاک ارادوں میں اردو بولنے والے بھی استعمال نہیں ہوںگے۔ ایچ آر سی پی کے صوبائی کوآرڈینیٹر پروفیسر امداد چانڈیو نے کہاکہ گم ہونے والے افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایچ آر سی پی مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر گم کیے گئے افراد کو رہا کیاجائے۔ اس موقع پر نامور ادیب تاج جویو‘ پروفیسر مستا میرانی‘ محب آزاد لاپتا افراد کے اہل خانہ‘ اقصی دلیو‘ سندھو نواز گھانگھرا‘ پنہل ساریواور مہیش کمار ودیگر نے بھی خطاب کیا۔