بلدیہ ٹائون کا نوارنی فٹبال گرائوند کچرے کے ڈھیر میں تبدیل

333

کراچی (رپورٹ : محمد عارف میمن)بلدیہ ٹائون نورانی گرائونڈکچرے کے ڈھیر میں تبدیل، بارش کے پانی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، گزشتہ دو سالوں سے گرائونڈ میں کوئی بھی فٹبال ٹورنامنٹ منعقد نہیں ہوا، کھلاڑی شدید مشکلات کا شکار ہیں ، کسی میچ میں حصہ لینا ہوتو تیاری کے لیے دوسرے گرائونڈ کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ جماعت اسلامی کے لوگوں کے سوا کسی نے اس گرائونڈ پر توجہ نہیں ۔گرائونڈ میں آج بھی عید الاضحٰی کے موقع پر قربان کیے جانے والے جانوروں کی الائشیں موجود ہیں جس سے قریبی رہائشی موذی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ سیکرٹری شاہین فٹبال کلب نوید کی روزنامہ جسارت سے گفتگو۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ ٹائون پانچ نمبر نورانی فٹبال گرائونڈ کی ابتر صورت حال نے کھلاڑیوں کو اذیت میں مبتلا کردیا۔ رہائشی گندگی اورالائشیوں کے سڑنے کے بعد پھیلنے والی بیماریوں سے پریشان ہونے لگے۔ گرائونڈ کی دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث گرائونڈ خستہ حالی کا شکار ہوکر کچرا کنڈی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مقامی کلب کے فٹبالرز ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں دوسرے گرائونڈ کا رخ کرتے ہیں جہاں انہیں کبھی ٹائم دیاجاتا ہے اور کبھی کھیل کے باعث انکار کردیاجاتا ہے۔ سیکرٹری شاہین فٹبال کلب نوید نے نمائندہ جسارت کو بتایا کہ یہاں گزشتہ دو سالوں سے کوئی ٹورنامنٹ منعقد نہیں ہوا، نورانی فٹبال گرائونڈ اب کھیل کے لیے نہیں بلکہ کچرے کے لیے مختص کردیاگیا ہے۔ قریبی رہائشیوں کو کچرے پھینکنے کے لیے کوئی متبادل دستیاب نہیں ، جس کے باعث ہر گلی کا کچرا یہاں آکر جمع کیاجاتا ہے اور پھر سال چھ ماہ بعد بلدیہ کی گاڑی آتی ہے اور تھوڑا بہت کچرا اٹھا کر اپنا فرض پور ا کردیتی ہے۔ نوید کے مطابق حکومت کہتی ہے کہ تندرست معاشرے کے لیے کھیلوں کا انعقاد ضروری ہے۔ مگر گرائونڈ کی حالت دیکھ کر نہیں لگتا کہ حکومت کھیلوں اور کھلاڑیوں کے معاملات حل کرنے میں کوئی سنجیدگی اختیارکرنا چاہتی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کا عملہ بھی یہاں کبھی نہیں آتا۔ نویدبتایا کہ ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کو بھی متعدد بار شکایات کرچکے ہیں مگر وہاں سے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ جب کہ بلدیہ عظمیٰ کو بھی اس سلسلے میں کئی بارتوجہ دلائی کہ یہاں کچرے کاڈھیر ختم کیاجائے تاکہ کھلاڑی اپنی صحنت مندانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ، تاہم کسی نے بھی ابھی تک اس پر کوئی توجہ نہیں۔ نوید کے مطابق 2010ء میں سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام ڈاکٹر خالد محمودسومرو اورمتحدہ مجلس عمل کے سابق رکن سند ھ اسمبلی حافظ محمد نعیم شموزئی نے ایم پی اے فنڈز سے گرائونڈ کی تعمیر اور ڈریسنگ روم کی تعمیر کرائی تھی ، 10سال گزرنے کے باوجود اس گرائونڈ پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا، اور اب صورت حال یہ ہے کہ 2سال سے یہاں کوئی میچ نہیں کھیلاگیا۔ نوید نے مزید کہاکہ یہاں لگ بھگ دس کے قریب فٹبال کلب ہیں جس کے کھلاڑی یہاں پریکٹس کیا کرتے تھے اور یہاں ٹورنامنٹ ہوا کرتے تھے ، تاہم یہ تمام کلب کھلاڑی دوسری جگہوں پر پریکٹس کرتے ہیں اور ٹورنامنٹ میں حصہ لیتے ہیں، جس کے باعث یہاں فٹبال کا کھیل تقریبا ختم ہوتا جارہاہے۔ اس موقع پر موجود علاقہ مکین نے بتایا کہ یہاں جب تک ٹورنامنٹ منعقد ہوا کرتے تھے تو ہمارے نوجوان کسی نشے میں مبتلا نہیں تھے ، تاہم اب گرائونڈ نہ ہونے کی وجہ سے کھیل ختم ہوچکا ہے جس کے باعث کھلاڑی روزگار کے بعد شام کو نشے میں مبتلا ہورہے ہیں۔ علاقہ مکین نے بتایا کہ اگر حکومت سہولیات فراہم نہیں کرسکتی تو کم از کم ہمارے لیے مصیبتیں بھی نہ بنائے۔ کچرا کنڈی کا متبادل انتظام کرکے اس گرائونڈ کو فوری طورپر اپنی سابقہ حالت میں بحال کیاجائے۔