کو ئٹہ ، ریلوے کالونی سے 9 روز قبل اغوا ہونے والی 7 سالہ بچی بازیاب

120

 

کو ئٹہ(نمائند ہ جسارت)ایڈیشنل آئی جی پولیس عبدالرزاق چیمہ نے کہا ہے کہ 9روز قبل کوئٹہ کے علاقے ریلوے کالونی سے اغوا ہونے والی 7سالہ بچی لاریب کو بازیاب کرالیا گیا ہے ، بچی کے اغوا میں ملوث جوتے پالش کرنے والا شخص 5سال قبل بھی اسی نوعیت کے کیس میں گرفتار ہوچکا ہے ، سائنٹیفک طریقے سے انویسٹی گیشن کرتے ہوئے ملزم تک پہنچے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ بچی کے والد سید عبدالرسول شاہ اور پولیس افسران وزیر خان ناصر اور اسد بھی موجود تھے ۔ عبدالرزاق چیمہ نے کہا کہ سائنٹیفک طریقے سے انویسٹی گیشن کرتے ہوئے ملزم تک پہنچے اگر اب بھی کیس حل نہ ہوتا تو ہمارے اور بھی وسائل تھے جن کے ذریعے ہم ملزم تک پہنچ پاتے۔عبدالرزاق چیمہ نے کہا کہ بچی کے اغوا کے بعد ملزم کی گرفتاری کے سلسلے میں ہم نے باقاعدہ ٹیمیں بنائی جو اس انفارمیشن کو سوشل میڈیا اور گلی محلوں میں پھیلاتے رہے جس سے پتا چلا کہ ایک جوتے پالش کرنے والا شخص سائیکل پر گلیوں اور محلوںمیں جاتا ہے آوازیں لگا کر جوتے پالش کرنے کے لیے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور لوگ جوتے ان سے پالش کرواتے ہیں یہ معلومات موصول ہونے کے بعد ہم نے مذکورہ شخص کے بارے میں معلومات اور ان کی تلاش شروع کردی ،محرم کے بعد ہی پتا چلا کہ یہ واقعی وہی بندہ ہے اور کسی نے بتایا کہ مذکورہ شخص کا تعلق فلاں قوم اور فلاں علاقے سے ہے اور پھر کسی نے بتایا کہ مذکورہ شخص ہمارا عزیز ہے اور آخر کار ہم ایسے بندے تک پہنچے کہ وہ مذکورہ شخص کا بیٹا تھا جس نے بتایا کہ یہ بالکل ان کے والد ہیں۔ ملزم کی پہچان ہونے کے بعد ہم نے ان سے رابطہ نمبر لیا ، نمبر ملنے کے بعد پولیس ٹیمیں پوری رات لگی رہی ۔ا س سلسلے میں سی ٹی ڈی کو بھی اپنے ساتھ شامل کیااور ان کا لوکیٹر لے کران کی ٹیم کابندہ لیا ۔ موبائل نمبر میں ایک ہندسہ غلط ہونے کی وجہ سے ہماری کوششیں کارآمد نہیں ہوسکی جس کے بعد ساڑھے 3 بجے ایس پی دوبارہ ان کے پاس گئے اور بتایا کہ اس نمبرمیں کچھ گڑھ بڑھ ہے بعد ازاں ملزم محمد یوسف کو ہزارگنجی کے لوکیشن سے گرفتار کرلیا گیا جس کی نشاندہی پر بچی کسی اور جگہ سے برآمد کرلی گئی۔انہوں نے کہا کہ 2015ء میں بھی ملزم نے کوئٹہ شہر میں ہی بچی اغوا کی جن سے بچی برآمد ہوئی ،ملزم کو چالان کیا اوروہ 10سال سزا اور 50ہزار روپے جرمانہ ہوا اور بعد ازاںضمانت پر رہا ہوا ۔ مستونگ واقعہ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ مذکورہ کارروائی سی ٹی ڈی اور ہمارے اداروں نے مشترکہ طور پر کی ۔اس سلسلے میں مجھے اتنا معلوم ہے کہ مذکورہ ملزم دہشت گرد گروہ کا سربراہ تھا جو گزشتہ روز کارروائی کے دوران مارا گیا ، ملزم نے ہمارے کسی بندے کو شہید کرنے کی پلاننگ کی ہوئی تھی اور پلاننگ کے تحت وہ اس بندے کو مارنے کے لیے آیا تھا۔