چین مسلم صوبے سنکیانگ کو ڈیجیٹل جیل بنادیا گیا

279

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چینی حکومت نے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کو لاک ڈاؤن کے نام پر ڈیجیٹل قیدخانے میں تبدیل کردیا۔ سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم سے متعلق پہلے بھی اقوام متحدہ کی جانب سے رپورٹیں جاری کی گئیں، جنہیں بیجنگ نے مسترد کردیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اب چینی حکومت نے مسلمانوں کی نگرانی مزید سخت کرنے کے لیے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کا سہارا لیا ہے،جس کے تحت مقامی باشندوں کو حراست میں لے کر 40 روز تک قرنطینہ کے نام پر جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں چینی حکام نامناسب اقدامات کے ساتھ ساتھ طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔ شہریوں کو روایتی چینی ٹوٹکوں سے تیار کردہ ادویات لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ادویات میں ایسے مضر صحت اجزا بھی شامل ہیں،جن پر جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور امریکا میں پابندی عائد ہے۔ بیجنگ حکومت نے ایک طرف تو ملک بھر میں کورونا وائرس کے تناظر میں عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے معمولات زندگی بحال کردیے ہیں،جب کہ دوسری طرف سنکیانگ میں مسلمانوں سے دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قید و حراست میں رکھ کر ان سے انسانیت سوز سلوک کیا جارہا ہے۔