امریکا عرب گٹھ جوڑ اسرائیل کی بقا کا ضامن بنا،نیتن یاہو

174
ابوظبی: امارات، امریکا اور اسرائیل کے اعلیٰ عہدے دار ملاقات کررہے ہیں‘ چھوٹی تصویر دنوں ممالک کے درمیان بینکنگ معاہدے پر دستخط کی ہے

مقبوضہ بیت المقدس/ ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے پر ہم سب بہت خوش ہیں۔ اس پیش رفت سے مشرقِ وسطیٰ میں سیاحت اور تجارت کے راستے کھل گئے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کا دائرہ بھی مزید وسیع ہوگا۔ نیتن یاہو نے ان خیالات کا اظہار امریکی صدر کے مشیرو داماد جیرڈ کشنر اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرفلسطینیوں کا بس چلتا تو وہ اسرائیلیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کردیتے۔ 1967ء کی سرحدوں پر واپسی کا مطلب یہودی ریاست کو تسلیم کیے بغیر اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ فلسطینی اعلانِ بالفور کے باعث برطانیہ پر مقدمہ کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔ 2 چیزیں ہیں جنہوںنے ہمیں 1967ء کی سرحدوں پرواپسی سے روکا۔ ایک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ اور دوسرا امریکی کوششوں سے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کا قیام ۔ ان دونوں نے اسرائیل کو خطرے سے بچا لیا۔ دوسری جانب جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غرب اردن کا الحاق امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کیقیام کے لیے روکا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اور اسرائیل کی توجہ ’’صدی کے منصوبے‘‘ میں طے پائے امور کو آگے بڑھانا اور ان پر مرحلہ وار عمل کرنا ہے۔ ہم نے بہت سے امور کے لیے مختلف امکانات رکھے ہیں اور کسی امکان کے لیے دروازے بند نہیں کیے۔ ضرورت محسوس ہوئی تو اسرائیل غرب اردن کے الحاق کے فیصلے پرعمل کرے گا اور امریکا اس کا ساتھ دے گا۔ جیرڈ کشنر نے کہا کہ ہم فلسطینیوںکو مذاکرات کی میز پرواپسی سے نہیں روکتے۔