نقطہ نظر

159

بارش عذاب بن گئی
مون سون کا موسم پوری دنیا کے لیے خوشگوار موسم کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان خاص طور پر کراچی کے لیے یہ موسم کسی طوفان کے پیش خیمہ سے کم نہیں ہوتا۔ حکومت کی نا اہلی کے نتائج عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ شہر کراچی کی سڑکوں اور شاہراہوں پر جگہ جگہ گندے نالوں کا پانی کھڑا ہے کچرے کے ڈھیر پھیلے ہوئے ہیں سڑکوں پر بارش کا پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے شہری سخت مشکلات کا شکار ہیں گھر سے باہر کام کرنے والے افراد کے لیے اپنے دفاتر تک رسائی بہت مشکل ہوگئی ہے۔
کے الیکٹرک کی خراب کارکردگی کی وجہ سے کئی شہری اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں کھمبوں اور پولوں میں کرنٹ آنے کی وجہ سے کئی لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر کھڑے پانی میں کرنٹ شہریوں کے لیے زہر کا کام کر رہا ہے جو بھی اس پانی میں سے گزرتا ہے زندہ نہیں بچتا۔
عیدالاضحیٰ کے بعد صفائی نہ ہونے کی صورت میں مختلف مقامات پر آلائشوں کے ڈھیر پھیلے ہوئے ہیں جن میں بارش کی وجہ سے بدبو اور بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اور یہ چیزیں ماحولیاتی آلودگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔کورونا وائرس کے بعد مزید صفائی اور احتیاط کی ضرورت تھی لیکن موجودہ حالات اس کے برعکس ہیں حکومت کی نا اہلی اور غیر ذمے داری کے علاوہ عوام کا بھی بہت حد تک قصور ہے اس گندگی کو پھیلانے میں… لوگ قربانی کرنے کے بعد آلائشوں کو پھینکنے کا صحیح انتظام نہیں کرتے جگہ جگہ قربانی کرکے گند چھوڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے حالات مزید سنگین ہوگئے ہیں۔ میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ وہ کچھ وقت کے لیے سیاست کو پس پشت ڈال کر عوام اور پاکستان کے سب سے بڑے اور اہم شہر کی بہتری کے لیے سنجیدگی سے سوچیں! سڑکوں پر کھڑے پانی اور کچرے کی صفائی کے لیے فوری اقدامات کریں۔ شہریوں کو میڈیا کے ذریعے ایسے راستوں سے آگاہ کریں جہاں کرنٹ موجود ہے تاکہ قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائیں جاسکیں۔
کشمالہ رضوان کراچی
اسرائیل کو کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے؟
میں وزیراعظم صاحب سے یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ بات ہمارے ضمیر کی نہیں ہے کہ ہم اسرائیل کو اس لیے تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ وہ فلسطین پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے۔ بلکہ قرآن کے قاری ہونے کی حیثیت سے ہم کو اللہ یہ حکم دیتا ہے کہ یہودی کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے تمہارے نقصان سے انہیں خوشی ہوتی ہے اور تمہاری کامیابی سے جلن۔ کہیں فرمایا کہ انہیں اپنا رازدار مت بنائو۔ کہیں فرمایا کہ یہ تم سے اس وقت تک خوش نہ ہوں گے جب تک تم ان کی ملت اختیار نہ کرلو۔ جناب وزیراعظم جیسے ہم ایک اسلامی نظریاتی سلطنت ہیں اسی طرح اسرائیل مخالفین اسلام ریاست ہے۔ ان کی ساری تگ و دو اسلام کو مٹادینے پر صرف ہورہی ہے اور ہمیں اللہ کی سرزمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا ہے تو پھر امت مسلمہ کیسے اس کو تسلیم کر لے۔ اللہ ہمارے ایمان کی، ہمارے کردار کی مرتے دم تک حفاظت فرمائے۔ آمین ثمہ آمین۔
سکینہ وقار