عقل کا گھمنڈ

338

ایک بڑے اخبار کے کالم نویس نے 27 اگست کو ایک کالم لکھا اور اس میں عوام کے ذہنوں کو الجھانے کے لیے سوالات کی بھرمار کردی۔ جس میں انہوں نے قرآن و حدیث کے مطالعے کے زعم میں علمائے کرام سے کئی تاریخی سوالات پوچھے ہیں۔ جن کا لب لباب یہ ہے کہ بیت المقدس کو یہودیوں کا حق مان لینا چاہیے۔ نہیں تو کم از کم اسے مذہبی ایشو تو بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ میں انہیں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سر! آپ اپنی فہرست میں قرآن اور تاریخ کے مطالعے کے دوران کچھ مزید سوالات نوٹ کرنا بھول گئے! جب آپ نے تاریخ کی بھول بھلیوں میں پڑ کر سوالات کا سلسلہ دراز کر ہی لیا تھا تو پھر آپ کو بصد ادب اللہ تعالیٰ کے حضور بھی کچھ سوالات رکھ ہی دینے چاہیے تھے کہ یا اللہ! کیا آپ نے یہودیوں کو پہلے دنیا میں نہیں بھیجا اور کیا آپ نے عیسائیوں کو بھی مسلمانوں سے پہلے دنیا میں نہیں بھیجا اور کیا آپ نے ان دونوں قوموں کو بھی ابراہیمؑ کی نسل سے پیدا نہیں کیا؟ اور کیا ان دونوں قوموں کا بھی صراحتاً یہ دعویٰ نہیں تھا کہ ہم ملت ِ ابراہیمی کے ماننے والے ہیں؟ تو پھر اے اللہ! آپ نے اپنے قرآن میں معاذ اللہ ان کے سچے اور پکے دعوے کے برعکس یہ آیت کیوں اتاری کہ مَا کَانَ اِبْرَاہِیْمَ یَہُوْدِیًّا وَّلاَ نَصْرَانِیًّا وَلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا کہ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے بلکہ وہ تو مسلمان تھے۔ اور یہ سوال بھی پوچھ لینا چاہیے تھا کہ اے اللہ جب یہودیوں نے کہا کہ ابراہیم ؑ یہودی تھے اور عیسائیوں نے کہا کہ ابراہیم ؑ عیسائی تھے تو آپ نے اُن کو قرآن مجید میں یہ جواب دے دیا کہ اے یہود ونصاریٰ تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ وَمَا اُنْزِلَتِ التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْل اِلَّا مِنْ بَعْدِہٖ کہ تورات اور انجیل تو ابراہیم ؑ کی وفات کے بعد نازل ہوئی ہیں تو ابراہیمؑ ان کتب کو مانے بغیر یہودی اور نصرانی کیسے ہوگئے تو یہاں پر بصد احترام یہ سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ اے اللہ! (معاذ اللہ) قرآن مجید بھی تو ابراہیم ؑ کے بعد نازل ہوا ہے تو پھر ابراہیم ؑ مسلمان کیسے ہوگئے؟
میںعرض کروں کہ عقل کے پیچھے لگ کر سر! پھر گستاخیوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے پھر لگے ہاتھوں خلیفہ ثانی سیدنا عمرؓ سے بھی یہ سوال پوچھ لینا چاہیے کہ ’’کیا آپؓ کو یہ سب سوال معلوم نہیں تھے کہ قبلہ اوّل خانہ کعبہ ہے اور بیت المقدس پہلے سے یہود ونصاریٰ کا قبلہ ہے، پھر آپ کیوں (معاذ اللہ) اپنے چند سرفروشوں کے بلانے پر بیت المقدس کی طرف ایک اونٹ اور ایک غلام کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے تھے؟ میں کہتا ہوں سر! پھر اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ آخر میں ڈرتے ڈرتے اللہ کے پیارے حبیبؐ جن کی زندگی سراپا وحی ہے، اُن سے بھی پوچھ لینا چاہیے تھا کہ آپؐ (معاذ اللہ) کیوں قسطنطنیہ کی فتح پر جنت کی بشارتیں دیتے رہ گئے اپنی زندگی میں؟ کیا یہ سب کشور کشائی نہیں تھی؟ کیا وہ سب سیاسی ایشوز نہیں تھے، سیدنا عثمان ؓ کے زمانے سے لے کر سلطان محمد فاتح تک سب اس کو مذہبی ایشو بنا کر ہی کیوں دیکھتے رہے؟
سر! بہت سوال ہیں اس بھٹکتی عقل کے اور اب سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سوالوں کے جواب ان بسم اللہ کے گنبد میں بند علمائے کرام سے پوچھوں جو قرآن و حدیث میں اپنی زندگیاں کھپائے بیٹھے ہیں یا ان دانش گردوں سے پوچھوں جن کے مطالعے کا ساغر بھی چھلکے جارہا ہے۔ ہاں البتہ سر! ایک جواب ان سارے سوالات کا اللہ تعالیٰ نے بھی دیا ہے قرآن مجید میں، جب اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان کو خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا اور فرشتوں نے بھی بہت سارے سوالات پوچھ لیے کہ یا اللہ! کیا ہم تیری فرماں بردار مخلوق نہیں ہیں؟ اور کیا اس سے پہلے جو مخلوق زمین میں رہتی تھی اس نے زمین میں خون خرابہ نہیں کیا؟ اور کیا آپ جس کو خلیفہ بنانے لگے ہیں وہ زمین میں خون خرابہ نہیں کرے گا۔ سر! اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرشتوں کو اس کے تفصیلی جواب سے پہلے ایک مختصر سا جواب دیا، جو اس کالم میں درج سوالوں کا بھی جواب ہے اور آپ کے کالم میں درج سوالوں کا بھی اور وہ یہ کہ اِنِّی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ کہ جو میں جانتا ہوں وہ تمہاری عقل میں آنے والا نہیں ہے۔ تو پھر عقلی سوالات کی بھرمار کرکے عوام کو گمراہ کرنے کا کیا فائدہ؟
قارئین! سمجھنے کی بات یہ ہے کہ زیادہ پڑھنے سے عقل آجانا ضروری نہیں ہے۔ اونٹ برابر قد بڑھانے سے بھی بعض اوقات پاپوش برابر عقل نہیں آتی۔ فاتح اور طاقت ور کی دلیل سے مغلوب ہوجانے کو بھی کوئی عقل نہیں کہتا۔ ایسے عقل مند تو اکیسویں صدی کی بالکل ابتدا میں بھی بارش کے بعد آنے والے پتنگوں کی طرح اَن گنت تھے۔ بدمست ہاتھی کی افغانستان آمد پر اُن کی عقل مشورے دیتی دیتی نہ تھکتی تھی۔ ذہنی ارتداد اسی کا نام ہے کہ زبان تو کلمہ پڑھتی رہے، مگر عقل دلیل کی گتھیوں میں ہی الجھی رہے۔ اچھے بھلے دین دار، فرشتوں کے سردار کی بھی عقل نے اسی گھمن گھیری ڈالی کہ شیطان بنا کرہی اسے چھوڑا۔ ایسے تھوڑا اقبال کہتا ہے کہ:
اچھا ہے دل کے پاس رہے، پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے