اسلام آباد ہائی کورٹ کا نواز شریف کو 10ستمبر تک سرینڈر کرنے کا حکم

256

 

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10ستمبر تک سرینڈر کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت غیر مؤثر ہو چکی، نواز شریف نے بیرون ملک جانے سے آگاہ نہیں کیا، نواز شریف 10 ستمبر تک عدالت کے سامنے سرینڈر کریں، بصورت دیگر قانون اپنا راستہ بنائے گا، ان کو مفرور قراردینے کی کارروائی کے ساتھ ساتھ ضمانت دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا کسی نوازشریف کے کیس سے الگ کردیا۔4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ 2 رکنی بینچ نے جاری کیا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوازشریف کا موجودہ اسٹیٹس یہ ہے کہ وہ اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں، یہ لیگل پوزیشن ہے کہ وہ ضمانت پر نہیں اور علاج کے لیے بیرون ملک گئے۔ جسٹس عامر فارو ق نے کہا کہ نوازشریف کی ضمانت
مشروط اور ایک مخصوص وقت کے لیے تھی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس جمع کرائی گئیں کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں، طبیعت ٹھیک نہیں پھر بھی نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی گئی۔عدالت نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع کی درخواست کب مسترد کی؟ اس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ 27 فروری کو پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔عدالت نے کہا کہ اگر لاہور ہائیکورٹ نے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تو العزیزیہ کی سزا ختم ہوگئی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ کی سزا مختصر مدت کے لیے معطل کی، کیا لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کو سپرسیڈ کیا جاسکتا ہے؟جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہمیں تشویش ضمانت سے متعلق ہے، لاہور ہائی کورٹ میں ای سی ایل کا معاملہ ہے، ہم صرف سزا معطلی اور ضمانت کا معاملہ دیکھ رہے ہیں،اس آرڈر کے اثرات لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر بھی آئیں گے۔جسٹس محسن اختر نے کہا کہ نوازشریف پیش ہوں گے تو اپیل پر سماعت آگے بڑھے گی، آپ کہہ رہے ہیں کہ غیرموجودگی میں بذریعہ نمائندہ اپیل پر سماعت کرلی جائے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کا نوازشریف کی صحت پر کیا موقف ہے؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر نواز شریف مفرور ہیں تو الگ 3 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، ٹرائل یا اپیل میں پیشی سے فرار ہونا بھی جرم ہے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نواز شریف کو اس وقت مفرور قرار نہیں دے رہے لیکن ان کے بغیر اپیل کیسے سنی جاسکتی ہے، اس حوالے سے ہم نیب سے بھی معاونت لیں گے کہ وہ کیا کہتے ہیں، ایک سوال ہے کہ اگر نواز شریف کی غیر حاضری میں اپیل خارج ہوگئی توکیا ہوگا؟ اگر عدالت نواز شریف کو مفرور ڈیکلیئر کر دے تو پھر اپیل کا کیا اسٹیٹس ہو گا؟ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے نوازشریف کی حاضری سے استثنا کی درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ نواز شریف کا پیش نہ ہونا عدالتی کارروائی سے فرار ہے اور وہ جان بوجھ کر مفرور ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم ایک تاریخ دیں گے جس پر نواز شریف سرینڈر کریں اس لیے ابھی ہم نواز شریف کو مفرور ڈیکلیئر نہیں کر رہے، ہم نواز شریف کو سرینڈر کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کر رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے نوازشریف کو 9 روز میں سرینڈر کرنے کا حکم دیا اور سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق حکومت سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔عدالت نے نوازشریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 10 ستمبر جب کہ مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں پر سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔