سلامتی کونسل ہندو توا گروپوں کی دہشت گردی کو نظرانداز کررہی ہے ‘منیراکرم

112

اقوام متحدہ (اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ سے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ اور داعش سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ہندو انتہا پسندوں کی دہشت گردی روکنے پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے جنرل اسمبلی کے ’’ورچوئل اجلاس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی دنیا میں پھیل گئی ہے‘ سلامتی کونسل نے بھارت کے ہندوتوا گروپوں سمیت انتہا پسندوں اور فاشسٹ تنظیموں کی طرف
سے مسلمانوںپر کی جانے والی دہشت گردی کو نظرانداز کیا ہے‘ حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کیا جا رہا ہے جبکہ مقبوضہ علاقوں میں لوگوں پر ظلم اور ریاستی دہشت گردی کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے‘ اگر سلامتی کونسل کی قراردادوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بین الاقوامی برادری کی تنازعات کی روک تھام اور تنازعات کے تصفے کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام ہوںگی ۔