عدالت نے نواز شریف کو سرنڈر کرنے کا حکم دے دیا

366

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پیش ہونے کا حکومت دے دیا۔

اسلام آبا د ہائیکورٹ میں جسٹس عامر فاروق وجسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کی سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف اس حالت میں نہیں کہ وہ ابھی پاکستان آ سکیں،ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کی سزا معطلی کے بعد ضمانت منظور ہوئی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو مشروط ضمانت ملی۔

جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت کا اسٹیٹس کیا ہے؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا موجودہ اسٹیٹس یہ ہے کہ وہ اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں یہ لیگل پوزیشن ہے کہ وہ ضمانت پر نہیں ہیں اور علاج کے لیے بیرون ملک گئے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف کی ضمانت مشروط اور مخصوص وقت کے لیے تھی، جس پر خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نوازشریف کی طبیعت خرابی کی میڈیکل رپورٹس جمع کرائی گئیں تھیں مگر درخواست ضمانت کو مسترد کردیا۔

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ عدالت ابھی نواز شریف کو مفرور قرار نہیں دے رہی لیکن نواز شریف کو سرنڈر کرنے کا ایک موقع دے رہے ہیں۔

بعدازاں عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور محمد صفدر کی اپیلیں نواز شریف سے الگ کردیں اور دونوں کی ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلوں پر سماعت 23 ستمبرکو ہوگی جبکہ  نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت 10 ستمبرتک ملتوی کردی۔

دوسری جاب نیب نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کردی۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد وسابق نوازشریف نے اپنی درخواست میں عدالت سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی اور کہا کہ وہ بیرون ملک طبی علاج کرا رہے ہیں لہذاان کے لئے عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں ہوگا۔