قطر کی سرپرستی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ

519

مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے پر قطر کی سرپرستی میں فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس اور اسرائیل کے درمیان نئی مفاہمت طے پا گئی۔

قطر کی جانب سے کرائی گئی مفاہمتی سمجھوتے میں قطرکی جانب سے پیش کی جانے والی رقم میں 3.5 کروڑ ڈالر کا اضافہ شامل ہے،اضافہ حماس تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں جائے گا جبکہ اضافی رقم کا تصرف 48 گھنٹوں کے دوران عمل میں آئے گا۔

مفاہمتی سمجھوتے میں حماس نےاس بات کی ضمانت دی ہے کہ غزہ کی پٹی کی سرحد پر صورت حال کو کنٹرول کیا جائے گا اور اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جانے سے روکا جائے گا جبکہ سمجھوتے میں سمندری شکار کے رقبے میں توسیع، سرحدی گزر گاہوں کا کھولا جانا اور فوری طور پر ایندھن داخل کرنا شامل ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے حماس کے خلاف سلسلہ وار اقدامات کیے تھے، ایندھن اور کئی اقسام کے سامان کی غزہ کی پٹی میں درآمد کا روکا جانا شامل تھا جس کےنتیجے میں غزہ کی پٹی میں مرکزی پاور اسٹیشن نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

اسرائیل نے گزشتہ روز صبح اعلان کیا تھا کہ اس کے ٹینکوں نے اتوار کے روز غزہ میں حماس تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، غزہ کی پٹی کے جنوب میں یہ کارروائی غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب آتش گیر غبارے چھوڑے جانے کے جواب میں کی گئی۔