مسلمان کبھی ظلم کی تائید نہیں کرسکتا، جماعت اسلامی

91

کراچی (نمائندہ جسارت) واقعہ کربلا ظلم کے خلاف جدوجہد کا پیغام ہے۔ امام حسین ؓ کی عظیم قربانی انسانیت اور اسلامی اصولوں کی فتح ہے،امام حسینؓ اپنے خاندان کے ساتھ حق کے تحفظ کے لیے شہادتوں کے بلند مقام پر فائز ہوئے اورقیامت تک کے لیے سربلند ہوگئے جبکہ ذلت و رسوائی یزید کے لیے دائمی مقد ر بن گئی ۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی لاڑکانہ کے تحت
فاران مسجد میں منعقدہ ایک روزہ دعوتی وتربیتی اجتماع سے جماعت اسلامی سندھ کے نائب امرا پروفیسرنظام الدین میمن،ممتازحسین سہتو،حافظ نصراللہ عزیز،قیم صوبہ کاشف سعید شیخ ، امیرضلع قاری ابوزبیرجھکروودیگرمقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ نے کہاکہ واقعہ کربلا ہمیں عظیم قربانیوں کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کا راستہ ہی حق اور سچ کا راستہ ہے اس پر چلتے ہوئے ہمیں کامیابی کا پختہ یقین ہونا چاہیے۔ نواسہ رسول ؐنے اپنے خاندان کے ساتھ قربانی دے کر ثابت کردیا کہ مسلمان کبھی ظلم کی تائید نہیں کرسکتا،مسلمان کبھی ظالم کا ساتھی نہیں بن سکتا۔ آج ہمیں بھی ان کے راستے پر چلتے ہوئے کفار کی کاسہ لیسی اور غلامی کو ترک کرنا چاہیے،جس اندازمیں ماضی کے حکمرانوں نے امریکی غلامی کا طوق گلے میں پہنا اور جی حضوری کرتے ہوئے ہر حد کو عبور کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ پروفیسر نظا م الدین میمن نے کہاکہ واقعہ کربلا ہمیںا یثار وقربانی کا درس دیتا ہے اتحاد بین المسلمین وقت کا اہم تقاضا ہے۔ مدینے کی ریاست بنانے کے دعویدار حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ امام حسینؓ کی پیروی کرتے ہوئے کشمیر میں بھارتی یزیدی لشکر کے خلاف اعلان جہاد کریں۔ ممتاز حسین سہتو نے کہا کہ اہل بیت کی محبت جزو ایمان ہے۔ اپنی زندگیاں ان مقدس ہستیوں کے نقش قدم پر گزاردیں تو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی ہمارا مقدر ہوگی۔ حافظ نصراللہ عزیز نے کہا کہ اس بات سے قطع نظر کہ شہادت کی یاد منائی جائے یا شہادت کا غم منایا جائے۔ یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان کیوں پیش کی، کس بات پر وہ اْٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اسلام کے سیاسی نظام میں بنیادی خرابی خاندانی بادشاہت کو روکنے اور اسے غلط ثابت کرنے کے لیے قربانی دی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت اسی خاندانی بادشاہت کے ماتحت زندگی گزار رہی ہے۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ محمد عاشق دھامرا،ضلعی امیر ابو زبیر جکھرو ،ذیشان عابدچانڈیونے بھی خطاب کیا۔