بدین:ایل بی او ڈی سیم نالے کا شگاف 6 روز بعد بھی بند نہ ہوسکا

441

بدین (نمائندہ جسارت) بدین ایل بی او ڈی سیم نالے میں پڑنے والا شگاف چھے روز بعد بھی بند نہ ہوسکا، بارش اور پانی کی سطح میں اضافہ اور دباؤ کے باعث مزید سیم نالوں میں شگاف، دیہات اور فصلیں زیرآب۔ بدین اور میرپورخاص ضلع کے علاقوں ملکانی، سمن سرکار، پنگریو، جھڈو، نوکوٹ، روشن آباد کے قریب ملک کے سب سے بڑے سیم نالے لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کی آر ڈی 228 کے مقام پر بدین ضلع کی جانب لگنے والا شگاف چھے روز بعد بھی بند نہ ہوسکا جبکہ بارش اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافے اور پشتوں پر دباؤ کے باعث سیم نالے میں دوسری جانب نوکوٹ کی طرف بھی شگاف پڑ گیا ہے۔ ایل بی او ڈی سیم نالے میں پڑنے والے شگاف سے پانی تیزی سے ضلع بدین کے علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے، بدین ضلع کی یونین کونسل ملکانی، سمن سرکار، خیرپور گنبو کے سیکڑوں دیہات اور ہزاروں ایکڑ زمین زیر ب آچکی ہیں اور سیکڑوں متاثرین مال مویشیوں سمیت نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں اور نقل مکانی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ پاک نیوی کی جانب سے پنگریو شہر سمیت مخلتف متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کمپ لگائے گئے ہیں جن میں ماہر ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف ہزاروں مریضوں کا معائنہ اور علاج کر کے مریضوں کو ادویات فراہم کررہے ہیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے مہیا کیا گیا راشن نیوی اور جی ڈی اے کے پارلمانی لیڈر حسنین مرزا نے پنگریو سمیت مختلف متاثرہ علاقوں کے متاثرین میں تقسیم کیا جبکہ جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر حسنین مرزا کی جانب سے ریلیف کمپ میں متاثرین میں کھانا مہیا کرنے کا سلسلہ بھی جاری۔ حسنین مرزا نے پاک نیوی کے میڈیکل کمپ کا دورہ کیا اور پنگریو شہر کا پیدل دورہ کر کے پانی کی نکاسی کا جائزہ بھی لیا۔ اس موقع پر حسنین مرزا نے شہریوں کی شکایت پر وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور گورنر سندھ سے رابطہ کرکے بجلی کی طویل بندش، خراب ٹرانسفارمر کی مرمت نہ کرنے، حیسکو کی غفلت اور کوتاہی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی طویل بندش، ٹرانسفارمر کی خرابی کے باعث زیر آب آنے والے علاقوں سے پانی کی نکاسی متاثر ہو رہی ہے جبکہ دس محرم الحرام کے موقع پر بھی عزا داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر وفاقی وزیر اور گورنر سندھ نے یقین دیانی کرائی کہ وہ وفاقی وزیر پانی و بجلی سے فوری رابطہ اور مسئلے کا حل یقینی بنائیں گے۔ ایم پی اے حسنین مرزا نے ایل بی او ڈی پر لگنے والے شگاف کے مقام کا بھی مسلسل تیسرے روز دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرین اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت اور محکمہ انہار ضلع میرپور کی بڑی سیاسی شخصیت کے گاؤں، زمینوں اور باغات کو بچانے کے لیے ضلع بدین کے عوام کے ساتھ ظلم کررہی ہے، سالانہ 26 ارب روپے سیم نالوں، نہروں کی صفائی، کھدائی اور پشتوں کی مرمت اور مضبوطی کے لیے مختص کر کے بڑے پیمانے پر خورد برد کر کے ہڑپ کرلیے جاتے ہیں، حکومت سندھ کی کرپشن کے باعث آج کراچی اور بدین سمیت پورا سندھ ڈوبا ہوا ہے، حکمران ریلیف کے نام پر بھی کرپشن کررہے ہیں۔ دوسری جانب بدین، ٹنڈو محمد خان اور سجاول کا پانی سمندر میں نکاس کرنے والے دو بڑے سیم نالوں امیر شاہ اور کارو گھنگڑو سیم نالے میں بھی پانی کے مسلسل اضافے کے باعث شگاف پڑنے اور مختلف مقام پر کمزور پشتوں سے پانی اوور ٹاپ کرنے کے باعث قریبی دیہات اور کاشت فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔