پیسے ہوتے تو بھی سندھ حکومت کو نہیں دیتے ،شبلی فراز

105
اسلام آباد، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اور اگر ہوتے بھی تو 10 ارب ڈالر سندھ حکومت کو نہیں دیتیکیونکہ یہ پیسے اومنی گروپ اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جیب میں جاتے جبکہ ان کی قیادت غائب ہے۔پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نیپیپلزپارٹی  کے رہنما قمر زمان کائرہ کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ تو بڑے شریف آدمی ہیں لیکن کس جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں، جس نے پاکستان کے عوام اور بالخصوص سندھ میں 12 سال میں کھربوں روپے لیے لیکن اسپتالوں، سڑکوں، سیوریج نظام، امن وامان اور اسکولوں کی حالات خراب ہے۔شبلی فرازنے کہا کہ سندھ میں صحت کا نظام خراب ہے، عوام کو نہ دوا ملتی ہے اور نہ ہی ایمبولینس ملتی ہے، جب کوئی قومی مسئلہ کھڑا ہوتا ہے تو پیپلزپارٹی کی قیادت غائب ہوجاتی ہے، ہم نے عوام کے سامنے اپوزیشن کی بلیک میلنگ عیاں کردی ہے، ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی ملک کے لیے کی جارہی ہے، کون کس صورت میں این آر او مانگ رہا تھا اس پر ٹوئٹ کی تھی ان کو زیادہ تکلیف ہوئی۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اسی لیے یہ لوگ بے چین ہیں کیونکہ ہم نے عوام کے سامنے ان کی اصلیت رکھ دی کہ یہ اس صورت میں این آر او مانگ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ‘این آر او یہی ہے کہ کرپشن کی تشریح میرے مطابق کریں اور قانون کو اس طرح بدلو کہ جس نے چوری کی ہے وہ بالکل بری الذمہ ہوجائے، 5سال پہلے چوری کی ہو تو اس کا حساب نہ لیا جائے۔شبلی فراز نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ کسی طرح حکومت کو ناکام بنایاجائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی ہے لیکن اب ہر شعبے میں بہتری آرہی ہے، تھوڑی تاخیر ہوئی ہے لیکن عوام کو اس کے بہتر نتائج نظر آئیں گے۔