بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے ناکام ہو گئے ہیں ، مولانا عبدالحق

97

 

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ 74 سال سے ملکی اقتدار پر قابض ٹولے نے قیام پاکستان کی منزل کو کھوٹا کرنے اور نظریہ پاکستان سے بے وفائی کی جو روش اپنا رکھی ہے اس کی وجہ سے آج ملک و قوم کو معیشت سمیت مختلف بحرانوں کا سامنا ہے۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کی راہ میں یہی کرپٹ ٹولہ رکاوٹ ہے، وسائل سے مالامال صوبے کے تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار، حکومتی سطح پر بدعنوان عناصر کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے عوام میں احسا س محرومی و ردعمل اور غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک و بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے ناکامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق، پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ بلوچستان کے لاکھوں نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان، حکومت اپنے وزراء کے مسائل حل کررہی ہے۔ عدالتوں سے غریب کو انصاف نہیں مل رہا۔ لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں۔ کیس لڑے لڑتے لوگوں کی زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں مگر پریشانیاں ختم نہیں ہوتیں۔ ہر حکومت غربت ختم کرنے اور قرضے نہ لینے کے نعرے لگا کر اقتدار میں آتی ہے مگر جب جاتی ہے تو قرضوں کے انبار لگا کر اور غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں کئی گنا اضافہ کرکے جاتی ہے۔ حکمران قرضوں اور سود کی معیشت سے تائب ہوکر اسلام کے زکوات و عشر کے نظام معیشت کو اختیار کیا جائے اور خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کیا جائے۔ نوجوانوں کو روزگار دے کر قومی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اس پر عملدرآمد کے لیے ابھی تک کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا۔ خوشحالی اور ترقی محض وعدوں سے نہیں کام کرنے سے آتی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کو اسلامی اور بلوچستان کو خوشحال بنانے کی جدوجہد کررہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ عوام جماعت اسلامی کی طرف رجوع کریں گے۔ عوام نے نام نہاد سیاسی و جمہوری جماعتوں، فوجی آمریت سب کو بار بار آزمایا ہے مگر کوئی بھی عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اترسکا۔ جماعت اسلامی کی تمام تر جدوجہد کا مقصد ملک کو قرآن و سنت کے نظام کی سرزمین بنانا ہے۔