چین اور بھارت کے درمیان نئی جھڑپیں کشیدگی میں اضافہ

430

نئی دہلی ؍ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں تازہ جھڑپوں کے بعد سرحد پر کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق چینی فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے آس پاس اپنا گشت بڑھا دیا ہے جب کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ مشرقی لداخ میں پیونگانگ جھیل کے جنوبی علاقے میں چینی فوج نے صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، جسے بھارتی فوج نے ناکام بنا دیا ہے۔ حکومت نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب پیش آیا، تاہم عسکری کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اُدھر بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوجی اور سفارتی سطح پر مذاکرات کے دوران جن امور پر اتفاق ہوا تھا، چینی فوج نے اس کی مخالفت کی اور پی ایل اے نے موجودہ صورت حال کو بدلنے کے لیے اشتعال انگیز حرکت کی۔جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں جانب سے فوجیوں کے درمیان زبردست ہاتھا پائی ہوئی۔ اس موقع پر چینی فوجیوں کی بھی بڑی تعداد تھی اور دونوں افواج نے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ 29 اگست کی شب شروع ہوا اور 30 اگست کی صبح تک جاری رہا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ چین نے ایل اے سی کے آس پاس اپنے فضائی اڈے پر جے ایف جنگی طیارے تعینات کردیے ہیں۔ دوسری جانب بیجنگ حکومت نے بھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی سرحدی فوج نے کبھی لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی نہیں کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق چینی سرحدی فوجی ایل اے سی کی سختی سے پاسداری کرتے ہیں جب کہ دونوں ممالک کی سرحدی افواج علاقائی امور پر بات چیت کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ لداخ کے علاقے گلوان میں 15جون کو بھی بھارتی اور چینی فوج میں جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔