توہین قرآن اور فرقہ واریت

613

اسے اتفاق قرار دیا جائے یا عالمی ایجنڈا کہ عین عاشورہ محرم کے موقع پر سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی ہوتی ہے پھر پاکستان میں عاشورہ کی مجلسوں میں توہین صحابہ پر مشتمل باتیں کی جاتی ہیں اس کے بعد ناروے میں بھی توہین قرآن کا واقعہ ہو جاتا ہے ۔ تمام واقعات پر مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے شدید عد عمل ظاہر کیا ہے ۔ مغربی ممالک میں تو ایسے واقعات سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کروائے جاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کا رد عمل دیکھا جا سکے اور اس کے نتیجے میں ان کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کیا جا سکے ۔ لیکن پاکستان میں تو جو کچھ ہوا ہے اس کے آثار محرم الحرام سے قبل ہی نظر آنے لگے تھے ۔ حکومت نے اس وقت کوئی قدم نہیں اٹھایا جب سوشل میڈیا پر نہایت قابل اعتراض باتیں وائرل کی گئیں اگر حکومت اس وقت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی اور ان باتوں سے ایک فرقے کے بڑوں کی لا تعلقی کا اعلان ہو جاتا تو دوسری جانب بھی کشیدگی نہیں ہوتی لیکن اب تو با قاعدہ حکومتی سیکورٹی میں ہونے والی مجلس میں سب کچھ ہوا ہے ۔ اگرچہ وزیر اعظم نے سخت ایکشن کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن یہ کام کرنے کے لیے وزیر اعظم کو نہایت مضبوطی دکھانی ہو گی کیونکہ مسلمانوں کی صفوں میں کسی نہ کسی بہانے دراڑیں ڈالنے ، مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کی جنگوں کے شعلوں کو پاکستان تک لانے اور یہاں کے امن کو تہ و بالا کرنے کی سازش برسوں سے جاری ہے ۔ اس سے محفوظ رہنے کا طریقہ یہی ہے کہ کسی کو صحابہ کرامؓ ، اہلبیت یا خلفائے راشدین اور امہات المومنین کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دی جائے اور اس حوالے سے قانون فوراً حرکت میں لایا جائے ۔ یہ بات بھی وضح ہو رہی ہے کہ بعض عناصر اس قسم کی شرارت کے مواقع تلاش کرتے ہیں جب شرارت ہو جاتی ہے تو فریقین ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں ۔ خرابی صرف حکومت کی خاموشی سے پیدا ہوتی ہے ۔ اگر حکومت نے ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو جو احتجاج ابھی ٹی وی چینلز اور میڈیا نے چھپا دیا ہے وہ کوئی مشتعل رُخ اختیار نہ کر لے ۔ اس کی ذمے داری بھی حکومت پر عاید ہو گی ۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ حکومتیں کوئی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتیں ۔ تمام مذہبی اور سماجی تنظیموں نے حکومت کو48 گھنٹے کا نوٹس دیا ہے ۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ ریاست مدینہ کا دعویٰ کرتے ہوئے کم از کم مدینے والی سرکار کے صحابہ کی ناموس کا تحفظ تو کرے ۔ یہ کام بالکل اسی طرح کیا جائے جس طرح اہلبیت کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جا سکتی ۔ اسی طرح صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی قابل قبول نہیں ۔ آج کل کے مسلمانوں کی یہ اوقات نہیں کہ ان کبار صحابہ ؓ یا عظیم ہستیوں کے بارے میں لب کشائی کریں ۔ ایسے تمام ذاکرین ، واعظین اور مقررین کی سخت گرفت ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کر سکے ۔ یہ وقت تو سویڈن اور ناروے میں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف پاکستان میں احتجاج کا تھا لیکن اس سازش کے ذریعے مسلمانان پاکستان اس عالمی سازش کے بجائے اپنے ملک میں فرقہ واریت کے مسائل میں اُلجھا دیے گئے ہیں ۔ ہر فریق کو اس سازش کو سمجھنا ہو گا تاکہ امت مسلمہ درست سمت میںپیش قدمی کر سکے ۔