کراچی دنیا میں سب سے زیادہ بدانتظامی کا شکار شہر

183

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم ترین شہر کراچی دنیا میں سب سے زیادہ بدانتظامی کا شکار ہے۔ کراچی کی تباہی میں تمام ا سٹیک ہولڈرز برابر کے شریک ہیں اور کسی ایک کو الزام نہیں دیا جا سکتا ہے۔کراچی کے زوال سے معیشت ،سیاست ،روزگار اور سماج پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںاور کراچی جو اس وقت سا لانہ 2600ارب روپے قومی خزانے میں بطور ٹیکس جمع کرواتا ہے اگر اس کو ماڈل شہر بنا یا جائے تو یہ شہر قومی خزانے میں4000ارب روپے سے زیادہ جمع کراسکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بارشوں سے جہاں معاشی، تجارتی، صنعتی اور سماجی سرگرمیاں رک گئی ہیں وہیں بندرگاہوں پر بھی کام بری طرح متاثر ہواہے ۔ملازمین اور مزدور کام پر نہیں آ پا رہے ہیںجبکہ کارگو لانے اور لے جانے میں بھی مشکلات حائل ہیں۔اس صورتحال سے ہر قسم کی درآمدات اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں اوراگر صورتحال یہی رہی تو جلد ہی ملک بھر میں ضروری اشیاء کی قلت ہو جائے گی جس سے بحران اور مہنگائی جنم لے گی۔برآمدکنندگان کی مشکلات کافی زیادہ ہیں ااور گزشتہ بارہ روز سے ان کا مال پھنسا ہوا ہے اور اگر صورتحال کو بہتر نہ بنایا گیا تو گزشتہ کئی ماہ سے برآمدات میں ہونے والا اضافے کا سلسلہ رک سکتا ہے۔
جس سے معاشی بحالی کی کوششوں کو دھچکا لگے گاجبکہ سب سے زیادہ نقصان ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمد کرنے والے شعبے کو ہو گا جو مغربی ممالک میں وائرس کے بعد لگنے والی پابندیوں کے نرم ہونے کے بعد کاروبار میں بہتری کی توقع کر رہے تھے۔کراچی کے حالات کی وجہ سے درآمد و برآمدکنندگان کی کاروباری لاگت بھی بڑھ گئی ہے جو پہلے ہی کمزور انفرااسٹرکچر اور لاجسٹکس کی وجہ سے زیادہ ہے۔بارش حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے معاشی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کو تلپٹ کر رہی ہے جبکہ زرعی شعبے کو بھی زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے الگ مسائل جنم لیں گے۔انھوں نے کہا کہ جب تک کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بارش اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے قابل نہیں بنایا جاتا ملکی ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی)این ڈی ایم اے )کی کا رکردگی بھی مایوس کن ہے جس کو ما حولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجزکے پیش نظر بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔