اسرائیلی طیارہ پہلی بار سعودی حدود میں داخل

389

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین نام نہادامن معاہدے کے بعد پہلی بار اسرائیلی طیارہ سعودی حدود میں داخل ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیارے نے ابوظہبی پہنچنے کیلیے سعودی عرب کی فضائی حدود کا استعمال کیا۔

یاد رہے یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل کی کسی بھی براہ راست فلائٹ نے سعودی فضائی حدود استعمال کی۔

اس سے قبل سعودی عرب نے بھارتی ائیر لائن کو اسرائیل کیلیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تھی تاہم اسرائیلی پروازوں کو طویل بحیرہ احمر کے راستے سفرطے کرنا پڑتا تھا۔

تل ابیب سے دبئی براہ راست پروازیں چلانے کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین ‘ابراہم معاہدہ ‘طے پانے کے بعد دبئی اور تل ابیب کے درمیان براہ راست پروازیں چلانے کی تیاری شروع کردی گئی۔

امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد مواصلاتی تعلقات بحال ہونے کے بعد ایک اور بڑی پیش رفت ہوئی ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم نےدبئی کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن  یاہو  کا کہنا ہے کہ تل ابیب اور دبئی کے درمیان براہ راست پروازیں براستہ سعودی عرب شروع کرنے کے منصوبے پر کام جاری ہے جبکہ دونوں ممالک کےٹیکنا لوجی  میں  بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری  میں دلچسپی رکھتے ہیں جو ہماری معیشت کو فروغ دے گی ۔

اس سے قبل اماراتی اپیکس نیشنل انویسٹمنٹ کمپنی نے ٹیسٹنگ ڈیوائس سمیت کورونا وائرس سے متعلق تحقیق اور ترقی پر تعاون کے لیے اسرائیل کی13 گروپ کے ساتھ اسٹریٹجک تجارتی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں ۔

دوسری جانب برطانوی میڈیا نےنے دعویٰ کیا ہے کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پرآنے سے خلیج عرب ملک کیلئے امریکی ہتھیاروں کی مزید فروخت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

اسرائیل امارات معاہدہ، فون اور ویب سائٹس سروس بحال

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کے بعد فون سروس اور انٹر نیٹ پر بند ویب سائٹس بحال ہونا شروع ہوگئیں۔

امارات کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر برائے تزویراتی ابلاغ ہند العتیبہ گزشتہ روز ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ” شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان اور اسرائیلی ہم منصب نے دونوں ملکوں کے درمیان فون رابطے کا افتتاح کیا۔

اسرائیل اور امارات  فون سروس کی بحالی کے بعد ویب سائٹس بھی اَن بلاک کردی گئی ہیں،اسرائیلی ویب سائٹ ” دا ٹائمز آف اسرائیل” کی ویب سائٹ بھی متحدہ عرب امارات میں آن لائن دستیاب ہوگی  جو کہ دیگر مسلم ممالک میں بند ہے۔

UAE foreign minister telephones his Israeli counterpart as lines open

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات معمول کے مکمل سفارتی تعلقات قائم کریں گے، اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان اس ڈیل کو”معاہدۂ ابراہیم”(ابراہام اکارڈ)  کا نام دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ 25 سال کے بعد یہ پہلا امن معاہدہ ہے۔

اسرائیل اور امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں ملاقات متوقع ہے ، جس میں سرمایہ کاری ،سیاحت ، براہ راست پروازیں شروع کرنے ، سکیورٹی، ٹیلی مواصلات، ٹیکنالوجی، توانائی، تحفظ صحت، ثقافت، ماحول اور ایک دوسرے کے ملک میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولنے سمیت  دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف سمجھوتوں پر دستخط کریں گے۔

دوسری جانب فلسطینی قیادت، حماس ، ترکی ، ایران  اور لیبیانےاسرائیل امارات معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا جبکہ اردن نے  1994ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔

اسرائیل سے تعلقات کیلئے مزید دو خلیجی ممالک متحرک

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد اور بحرین اور عمان بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے جارہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق  سینئر عہدیداروں نے مبینہ طور پر انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد دیگر خلیجی ریاستوں  بحرین اور عمان سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

امریکا کے اعلیٰ حکام نے فلسطینی میڈیا کو بتایا کہ توقع ہے کہ بحرین اور عمان کے مستقبل قریب میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں گے۔

اس سے قبل بحرین کے ساتھ رابطوں کی اطلاع اسرائیل کے’آرمی ریڈیو’ کے ذریعہ بھی دی گئی ہے، جس میں متعدد اسرائیلی عہدیداروں نے بتایا کہ وہ بحرین کے ساتھ تعلقات پر رابطےمیں ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے یو اے ای اور اسرائیل مابین تعلقات قائم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسرائیل سے تعلقات کے لیے امریکا کسی ملک پر دباؤ نہیں ڈال رہا

ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیرخاص جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ‘امریکا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلیے کویت اور دیگر خلیجی عرب ریاستوں پر دباؤ نہیں ڈال رہا’۔

امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد دیگر خلیجی اور عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ رابطے میں ہیں ، تاہم  امریکا کی جانب سے  اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلیے کویت سمیت کسی بھی خلیجی عرب ریاست پر دباؤ نہیں ڈال جارہا۔

جیرڈ کشنر نےکویت کے حوالے سے فلسطینیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ 1991 کی خلیجی جنگ کےدوران کویت نے4  لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ملک سے بے دخل کیا تھا،  کویت سمیت ہر ملک اپنے مفاد پر کام کررہا ہے۔

دوسری جانب کویتی روزنامے القبس نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت کےسرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے بعد ‘ کویت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا آخری ملک ہوگا’۔

یو اے ای اسرائیل معاہدہ، فلسطین اور ایران نے مسترد کردیا

فلسطینی ریاست اور ایران نے اسرائیل کے ساتھ متحدہ عب امارات( یو اے ای) کے مابین معاہدے کو مسترد کردیا۔

الجزیرہ کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہیں، یہ معاہدہ  فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتا اور عوام کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے۔

فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے ممبر حنان ایشوری کا کہنا ہےکہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ معاملات پر کھل کر سامنے آیا ہے،فلسطین میں آج تک جو کچھ غیر قانونی طور پر ہوا یو اے ای اسرائیل معاہدے کا مقصد یروشلم کو نوازنا ہے جبکہ فلسطین کی اسلامک جہاد موومنٹ نے بھی اس معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور یو اے ای کی ڈیل کے بعد فوری طور پر فلسطینی سیاسی لیڈر شپ کیساتھ تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس بلایا  جس میں کہا  گیا ہے کہ یہ امن معاہدہ مستقبل میں فلسطینیوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرے گا،  معاہدہ اسرائیل کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ مسلمانوں اور عرب ممالک کے قریب ہو اور فلسطینیوں کے مسائل کو پس پشت ڈال دے، اسرائیل صرف اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے۔

Arab Leaders' Support for Mideast Peace Plan Marks a Regional ...

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایران نے اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدے کو شرمناک قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات دنیا کا تیسرا مسلم ممالک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے، اس سے قبل مصر اور 1994ء اور 1979ء کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ  نے معاہدے کو اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی ، متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرلیےہیں ،معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں امن کو فروغ ملے گا۔

اسرائیل کا یو اے ای کو ایف-35 طیارے دینےسے انکار

تعلقات بحالی کے باوجود اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو ایف-35 طیارے دینے سے صاف انکار کردیا۔

اسرائیل سے دوستی بھی یواے ای کے کام نہ آئی، دوستانہ تعلقات قائم ہونے کے باوجود اماراتی حکومت ایف-35 طیاروں سے ہاتھ مسلتی رہ گئی۔

اسرائیلی انٹیلی جنس وزیر ایلی کوہن نے کہا ہے کہ ‘یو اے ای اور اسرئیل کے مابین امن معاہدے کے بعد بھی اسرائیل نے اپنی سالمیت کیلیے خطرہ بننے والے ایف-35 طیارےکی فروخت کی خبروں کی تردید کردی’۔

اسرائیلی وزیر نےکہا کہ میرے عہدے پر ہوتے ہوئے ایسی کوئی شق نہیں کہ ہم متحدہ عرب امارات کو ففتھ جنریشن ایف -35 طیارے دیں گے۔

ایک انٹرویو کے دوران یو اے ای سے متعلق معاہدے کے سوال پر ایلی کوہن نے کہا کہ  یو اے ای کو ہتھیار فروخت کرنے کے حوالے سے ایسی کوئی بات زیرغور نہیں۔ ایلی کوہن نے اعتراف کیا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی ملک کو ہتھیار فروخت نہ  کرنے اور خطے میں اپنی فوجی طاقت کو برقرار رکھنے کا دباؤ ہے۔

ایلی کوہن نے کہا کہ بینجمن نیتن یاہو کے علاوہ متبادل وزیراعظم بینی گینٹز اور وزیرکارجہ گیبی اشکنازی بھی یواے ای اور اسرائیل معاہدےسے لاعلم ہیں ۔

اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کے بعد بھی ہماری پالیسی یہی ہے جو میں جانتا ہوں تاہم کسی تبدیلی پر مخالفت کروں گا۔