سویڈن کے بعد ناروے میں قرآن مجید کے اوراق پھاڑ دیے گٸے

436

یورپی ملک سویڈن کے بعد ایک اور اسلامو فوبیا کے شکار ملک ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں قرآن مجید بے حرمتی کا واقعہ رونما ہوگیا۔

گزشتہ روز سے اوسلو میں قرآن مجید بےحرمتی کا واقعہ رونما ہوا جس میں مسلمانوں ک مقدس کتاب قرآن مجید کے اوراق پھاڑے گٸے۔جس کے بعد ناروے میں احتجاجی مظاہروں ک نارکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ناروے پولیس نے فریقین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ 30 افراد کو گرفتار کر لیا۔

اسلام مخالف ریلی کا انعقاد ‘اسٹاپ اسلامائزیشن آف ناروے‘ نامی گروپ نے ملکی پارلیمانی عمارت کے قریب کیا گیا۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس مظاہرے کے خلاف بھی ایسے سینکڑوں افراد وہاں جمع ہوئے، جنہوں نے ‘ہماری گلیوں میں نسل پرستوں کی گنجائش نہیں‘ جیسے نعرے بلند کیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صورت حال اُس وقت کشیدہ ہو گئی، جب ایک اسلام مخالف خاتون نے قرآن کے اوراق پھاڑ ڈالے۔ اس خاتون کو پہلے بھی نفرت انگیز تقاریر کرنے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے۔ اس خاتون نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے اشتعال دلایا کہ ”دیکھو اب میں تمہارے قرآن کی بے حرمتی کروں گی۔‘‘

اس کے بعد وہاں موجود افراد نے اسلام مخالفین پر انڈے برسائے اور بعض نے پولیس رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اس خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی۔ پولیس نے صورتحال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پیپر اسپرے کا بھی استعمال کیا اور اسلام مخالف ریلی وقت سے پہلی ہی ختم کر دی گئی۔

ناروے کے سرکاری ٹیلی وژن این آر کے نے بتایا ہے کہ پولیس نے 29 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں متعدد کم عمر ہیں۔

یاد رہے ناروے میں اسلام مخالف مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ہفتے جمعہ کے روز سویڈن کے شہر مالمو میں دائیں بازو کے انتہاپسندوں نے قرآن کی ایک کاپی کو آگ لگا دی تھی۔