کراچی میں بارش سے مزید 11 ہلاک ،کئی علاقوں کی بجلی بحال نہ ہوسکی،شہری مشعل

182

کراچی (نمائندہ جسارت) کراچی میں بارش سے مزید11 ہلاک ہوئی‘ کئی علاقوں میں 50 گھٹنے سے زاید گزرنے کے باوجود بجلی بحال نہ ہوسکی‘ منظورکالونی، نارتھ ناظم آباد و دیگر علاقوں کے ندی، نالوں سے 6 لاشیں کی برآمد ہوئی ہیں‘ کرنٹ لگنے سے4 ہلاک ہوگئے‘ درجنوں علاقے اب بھی زیرِ آب ہیں‘ مختلف علاقوں میں بجلی و پانی کی فراہمی کے لیے مظاہرے کیے‘ اسسٹنٹ کمشنر آرام باغ کی گاڑی کا گھیرائو کرلیا گیا‘ کے الیکٹرک کے50 فیصد سب اسٹیشنوں میں پانی داخل ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابقشہر میں بارش کے چھٹے سلسلے نے مزید 11 افراد کی جان لے لی‘بارش
کے چھٹے سلسلے میں مجموعی اموات کی 28ہوگئی‘جب کہ6 جولائی سے شروع ہونے والی بارش میں 62 افراد اپنی جان سے گئے۔ ہفتے کو منظورکالونی کے نالے سے 21 سالہ بلال تیمور ولد یعقوب نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا جب کہ اس کے ساتھ ڈوبنے والے شخص کی تلاش جاری تھی‘ نارتھ ناظم آباد بلاک ایل کے نالے سے ڈوب کرجاںبحق ہونے والے نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی‘ ڈیفنس فیز فور کے ایک گھر سے30 سالہ سیکورٹی گارڈ جاوید کی لاش برآمد ہوئی جسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹر سیمی جمالی نے گارڈ کے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔ قیوم آباد میں 18 سالہ چندا رمضان کرنٹ لگنے سے جاں بحقہوا ۔ڈرگ روڈ ناتھا خان پلکے قریب کام کے دوران50 سالہ غازی خان ولد لال خان کرنٹ لگنے سے جابحق ہوگیا‘ اورنگی ٹائون سیکٹر14-D کے قریب گھر میں کرنٹ لگنے سے40 سالہ خاتون عشرت جہاں زوجہ محمد منورجاں بحق ہوگئی‘کورنگی کراسنگ کے قریب ندی سے 36 سالہ سویرا زوجہ نذیر کی لاش برآمد ہوئی ‘ جب کہکورنکی کراسنگ کے قریب ہی سے ایک 29 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی جو ڈوب کر جاں بحق ہوا تھا‘ ہاکس بے میں فٹبال چوک کے قریب ندی سے بھی ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی جو ڈوب گیا تھا‘ جب کہ لیاری ندی سے بھی ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ دوسری جانب کے الیکٹر ک کی نااہلی کے باعث شہر میں بارش کے دوران شہر میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہوگیا‘ کے الیکٹر ک بارش کے50 گھنٹے سے زاید گزرنے کے باوجود بھی شہر کے بیشتر علاقوں کی بجلی بحال کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی‘ ہفتے کے روز صدر، ہجرت کالونی،گلستان جو ہر، گلشن اقبال، محمودآ باد اور اختر کالونی، لیاری اور دیگر علاقوں میں مظاہرے کیے جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی‘ ٹاور کے قریب علاقہ مکینوں نے وہاں سے گزرنے والے اسسٹنٹ کمشنر آرام باغ کی گاڑی کو گھیر لیا اور کے الیکٹرک اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور بجلی کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا جبکہ کراچی میں بارش کے بعد آئی آئی چندر یگر روڈ، ڈیفنس اور کلفٹن سمیت شہر کے درجنوں علاقے اب بھی زیرِ آب ہیں‘ ڈرگ روڈ، ناظم آباد، لیاقت آباد، طارق روڈ، کے پی ٹی اور ہل پارک کے انڈر پاسز میں بارش کا پانی جمع ہے۔ شارعِ فیصل پر جناح اسپتال پل کے نیچے پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ نیا ناظم آباد میں صورت حال سب سے زیادہ خراب ہے جہاں پھنسے ہوئے افراد کو ایدھی کی کشتیوں کے ذریعے نکالا گیا۔ سرجانی ٹائون میں ہر طرف پانی سے بھری گلیاں اور محلے نظر آ رہے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کے الیکٹرک نے کہا کہ کراچی میں حالیہ ریکارڈ بارش کے دوران کمپنی کے50 فیصد سے زاید سب اسٹیشنوں میں پانی داخل ہوگیاہے‘ پانی کی نکاسی اور آلات کو سوکھنے کی ضرورت ہے جس میں وقت لگے گا۔