ملازمتوں کا کوٹہ سسٹم ختم ہوچکا، بحال سمجھنا غیر قانونی ہوگا

155

اسلام آباد (رپورٹ: میاں منیر احمد ) آئین کے آرٹیکل27 کے تحت ملازمتوں کے تحفظ کے لیے دیے جانے والا کوٹہ سسٹم ختم ہوچکا ہے اور اس وقت آئین کے تحت اسے بحال سمجھنا غیر قانونی ہوگا،حکومت اس قانونی سقم اور آئینی معاملے کو حل کرنے کے لیے سوچ بچار کر رہی ہے تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے، پہلے یہ معاملہ کابینہ میں جائے گا اور پھر وہاں سے منظوری کے بعد ہی اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، مگر یہ معاملہ فی الحال خاموشی کی تہہ کے نیچے ہے پارلیمنٹ میں موجود پارلیمانی جماعتوں کی صفوں میں بھی اس معاملے پر خاموشی پائی جاتی ہے مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور دیگر پارلیمانی جماعتوں نے بھی فی الحال اس پر کوئی ہوم ورک نہیں کیا، آئینی ماہرین کی رائے ہے کہ حالانکہ یہ معاملہ ملک میں ہونے والی حالیہ مردم شماری کے نتائج کے بعد فیصلہ کن پوزیشن لینے کا تقاضا کرتا ہے۔اگر حکومت اس مدت میں اضافہ چاہتی ہے تو یہ عمل پارلیمنٹ کے ذریعے ہی اٹھایا جائے گا، یا اس کے لیے صدر آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں اس کے بغیر اسے کسی انتظامی حکم کے ذریعے آگے نہیں بڑھایا جاسکتا، اگر کوئی شہری یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل184/3 کے تحت عدالت عظمیٰ کے رو برو پیش کرے اور معاملے کی آئینی حیثیت معلوم کرنے کی استدعا کرے ، عدالت عظمیٰ اس اہم آئینی نکتے پر اپنی وضاحت دے سکتی ہے، آئین پاکستان میں1973ء میں دستور نافذ کرتے ہوئے ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ کرتے ہوئے آرٹیکل27 کے ذریعے یہ بات شامل کی گئی تھی کہ’’ کسی شہری کے ساتھ جو با اعتبار دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقرر کا اہل ہو، کسی ایسے تقرر کے سلسلے میں محض، نسل، مذہب، ذات، جنس، سکونت، یا مقام پیدائش کی بنا پر امتیاز روا نہیں رکھاجائے گا مگر شرط یہ ہے کہ یوم آغاز سے زیادہ سے زیادہ 40 سال کی مدت تک کسی طبقے یا علاقے کے لوگوں کے لیے اسامیاں محفوظ کی جاسکیں گی تاکہ پاکستان کی ملازمت میں ان کو مناسب نمائندگی حاصل ہو جائے۔ مزید شرط یہ ہے کہ مذکورہ ملازمت کے مفاد میں مصرحہ اسامیاں یا ملازمتیں کسی ایک جنس کے افراد کے لیے محفوظ کی جاسکیں گی اگر مذکورہ اسامیاں یا ملازمتوں میں ایسے فرائض اور کارہائے منصبی کی انجام دہی ضروری ہو جو دوسری جنس کے افراد کی جانب سے مناسب طور پر انجام نہ دیے جاسکتے ہوں(۲) شق(۱) میں مذکورہ کوئی امر کسی صوبائی حکومت یا کسی صوبے کی مقامی یا دیگر ہیئت مجاز کی طرف سے مذکورہ حکومت یا ہیئت مجاز کے تحت کسی اسامی یا کسی قسم کی ملازمت کے سلسلے میں اس حکومت یا ہیئت مجاز کے تحت تقرر سے قبل‘ اس صوبے میں زیادہ سے زیادہ 3سال تک سکونت سے متعلق شرائط عائد کرنے میں مانع نہیں ہوگا‘‘ آئینی ماہرین نے اس معاملے پر جسارت کے استفسار پر بتایا کہ جب آئین نافذ ہوا تو یہ آرٹیکل شامل کیا گیا، بعد میں1977ء میں ملک میں مارشل لا نافذ ہوگیا تو بنیادی حقوق بھی معطل ہوگئے، اس کے بعد 1985ء میں اس وقت کے صدر نے صدارتی آرڈیننس جاری کیا اور غیر جماعتی انتخابات کے بعد پارلیمنٹ نے اسے آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت تحفظ دیا اور اس کے بعد حکومتوں نے اسے پارلیمنٹ میں دو تہائی ووٹ کے ذریعے اسے آگے بڑھایا مگر اس وقت یہ مدت مکمل ہوچکی ہے اور آئینی لحاظ سے کوٹہ سسٹم بحال رکھا جانا غیر آئینی عمل ہے‘ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے رو برو اگر یہ معاملہ مفاد عامہ کے عنوان سے پیش کیا جائے تو ملک کی اعلیٰ عدلیہ اس پر اپنا فیصلہ دے سکتی ہے۔