کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا التوا کسی صورت قبول نہیں ،حافظ نعیم الرحمن

87
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سرجانی ٹائون کے بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ اور الخدمت کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران پارٹیوں کے اتحاد کے نام پر کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا التوا کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا،فوری طور پر مردم شماری کی خرابیوں کو دور کر کے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جائے ۔حافظ نعیم الرحمن نے حالیہ بارشوں سے متاثر ہونے والے یوسف گوٹھ ، عبد الرحیم گوٹھ ، بسم اللہ ٹاؤن سمیت سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر 2اور 3کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا،بارش کے پانی میں گھرے ہوئے متاثرہ مکینوں سے ملاقات کی۔مکینوں کے حالات اور مسائل سے آگاہی حاصل کی،وہ بعض مقامات پر گھٹنوں گھٹنوں پانی میں بھی گئے اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے جماعت اسلامی اور الخدمت کی طرف سے ہر ممکن تعاون اور امداد کی یقین دہانی کرائی ۔حکومت کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت و لاپروائی کی شدید مذمت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے کریمی چورنگی پر قائم الخدمت کے ریلیف کیمپ اور مفت میڈیکل کیمپ کا بھی دورہ کیا،امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اورالخدمت کے رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔الخدمت کی جانب سے متاثرین کو پینے کا صاف پانی ،کھانا اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں ،میڈیکل کیمپ پر ڈاکٹر ،پیرا میڈیکل اسٹاف ادویات اورالخدمت کی ایمبولینس بھی موجود ہیں ۔اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کے تقریباً 3 کروڑ افراد کے مسائل کے حل اور شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔وفاقی وصوبائی حکومتیں اور اس شہرسے ووٹ لینے والی حکمران پارٹیاں زبانی جمع خرچ کرنے ،ذمے داری ایک دوسرے پر ڈال کر الزامات لگانے اور پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے بجائے اتفاق رائے پیدا کرکے مسائل حل کریں کیونکہ آج کراچی کے عوام جن حالات سے دوچار ہیں اور جن سنگین مسائل کا شکار ہیں وہ ان کی نااہلی و مجرمانہ غفلت کے باعث پیدا ہوئے ہیں اور اب ان ہی کی ذمے داری ہے کہ یہ کراچی کے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر ،بجلی ، پانی ،ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر کریں تاکہ کراچی کے شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے اور مسائل حل ہوتے نظر آئیں۔پی ٹی آئی کی حکومت کو 2سال ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ اس نے بھی ان 2سال میں کراچی کے لیے کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں دکھائی اور اس کے تمام دعوے اور وعدے جھوٹے ثابت ہوئے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج بھی سرجانی ٹاؤن کے مذکورہ گوٹھوں اور ان علاقوں سے پانی نہیں نکالاجاسکا ہے اور مکین منتظر ہیں کہ ان کے گھر بار اور علاقے بارش کے پانی اورگندگی سے پاک ہوں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ بدقسمتی سے حکومت کے پاس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی اور نظام موجود نہیں ہے ،تمام حکومتی نمائندے اور وزرا صرف اعلانات اور دعوے کرتے ہیں ،عملاً کارکردگی کچھ نہیں ہے ،ضروری ہے کہ سرجانی ٹاؤن کے علاقوں سے پانی کی نکاسی کا فوری انتظام کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اور الخدمت نے اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر متاثرین کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی ہے ،ان گوٹھوں سمیت شہر بھر کے متعدد علاقوں میں بارش میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کیا ہے،لوگوں کو گھروں تک پہنچانے کے لیے الخدمت کی شٹل بس سروس بھی شروع کی او ر لوگوں کو ان کے گھروں تک جاکرکھانے پینے کا سامان پہنچایا ہے ، ہمارے رضاکار کئی کئی دن سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ،یہ سرگرمیاں متاثرین کی بحالی تک جاری رہیں گی ۔حافظ نعیم الرحمن نے خدمت میں مصروف رضاکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کوشاندار خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ اللہ کی رضا کے حصول اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت کی جانے والی کوششیں ضرور اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوںگی۔عوامی خدمات اور امدادی سرگرمیاں بھی عوامی رابطے کا ایک ذریعہ ہیں، ہماری تمام سرگرمیاں اقامت دین کی جدوجہد کا حصہ اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہی ہوتی ہیں ۔ اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام ہی تمام مسائل کا حل ہے ۔اس موقع پر متاثرین علاقہ نے حافظ نعیم الرحمن کو بتایا کہ 10روز گزرنے کے باوجود اب تک حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، علاقے میں اب تک پانی موجود ہے، گھروں میں موجود مریض پریشان حال ہیں ، بجلی موجود نہیں ہے ۔اس موقع پر ضلع شمالی کے امیر محمد یوسف ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،پبلک ایڈ کمیٹی کے ابوالضیا پرویز اوررضوان شاہ ودیگر بھی موجود تھے۔