جھڈو ،حیات خاصخیلی میں پران ندی کا سیلانی پانی داخل

59

جھڈو (نمائندہ جسارت) جھڈو سے گزرنے والے نکاسی آب کے ندی نالوں اور سیم نالوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے اور طغیانی کے باعث صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی ہے جس سے جھڈو شہر ڈوبنے کا خدشہ ہے، شہر کے علاقے حیات خاصخیلی کے گلی محلوں میں پران ندی کا سیلابی پانی داخل ہوگیا، شہرکو بچانے کے لیے انتظامیہ کی کوششیں جاری ہیں اور پشتوں کو مضبوط بنانے اور حفاظتی بندوں کی نگرانی کی جارہی ہے، فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ حکومت نے ابھی تک ریلیف پروگرام کا آغاز نہیں کیاہے جس سے متاثرین میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ جھڈو سے گزرے والے پران ندی اور دو سیم نالوں ایم ایم ڈی اور اسٹینل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، دوروز کے دوران پانی کی سطح میں آدھا فٹ کا اضافہ ہواہے جس کے بعد پران ندی میں شدید طغیانی پیدا ہونے سے صورت حال انتہائی خطرناک ہوگئی ہے پران ندی کا پانی شہر کے علاقے میرغلام حسین کالونی میں داخل ہونے کے بعد حیات خاصخیلی کے گلی محلوں میں داخل ہوگیاجس کے بعد انتظامیہ کو علاقہ خالی کرنے اور اپنی حفاظت کے لیے مساجد سے اعلانات کرنے پڑے۔ دوسری جانب جھڈو پنگریو بائی باس پر ملوک شاہ قبرستان کے نزدیک بھی پران ندی کی سطح میں اضافہ ہونے اور شدید ترین طغیانی آجانے سے شہرکو بچانے کے لیے مٹی کے بورے لگا کر ایک کلو میٹر طویل باندھے گئے بند پر بھی پانی کا دبائو آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے جس کی سختی سے نگرانی کی جارہی ہے اور انتظامیہ شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سر توڑ کوشش کررہی ہے۔ دوسری جانب زیر آب آجانے والے دیہات میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے، تاہم سندھ حکومت کی جانب سے تاحال امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی جاسکی ہیں، جس سے متاثرین برسات میں شدید مایوس پائی جاتی ہے۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ انہیں فوری طور پر کھانا، ادویات، ٹینٹ اور جانوروں کا چارہ فراہم کیا جائے۔