کراچی میں اختیارات کا مطلب صرف پیسے ہیں،چودھری شجاعت

195

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کراچی کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں اختیارات کا مطلب صرف پیسے ہیں۔ کئی ادوار گزرے، کئی لوگ اقتدار میں آئے اور چلے گئے لیکن کراچی ہمیشہ سیاسی بیان بازی کی نذر ہو جاتا ہے، کراچی میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومت رہی، گونر راج بھی رہا، میئر اور ایڈمنسٹریٹر بھی تعینات رہے مگر افسوس ایک دوسرے پر الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ اکثر سب ایک دوسرے پر الزامات لگا کر بری الذمہ ہوتے رہے اور ہمیشہ اقتدار اور اختیارات کا رونا رویا گیا، کراچی کے اہم مسائل میں گندے اور صاف پانی کا مسئلہ نمایاں ہے۔ صفائی کے مسئلے کو اجاگر توکیا گیا لیکن عملی طور پر شہر کی صفائی کی بجائے اپنی صفائی کو اہمیت دی گئی، اکثر لوگ کراچی کی صفائی کی بجائے ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہیں، یہاں پر اختیارات کا مطلب صرف پیسے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ میئر کام کرے گا، میئر سے پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں میرے پاس اختیارات نہیں، جس کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے تو سب اپنی صفائی پیش کرنے لگ جاتے ہیں، جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر فوج کو درخواست کی جاتی ہے کہ وہ آئیں اور جھاڑو پھیرنے کا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ وزیر اعظم خود کراچی میں ایک ہفتہ رہیں اور کراچی کے ہر مسئلے کو خود مانیٹر کریںاور ہدایات جاری کریں۔ اپنی سوچ کے مطابق وقت کا تعین کریں اور اس دن دوبارہ جائیں اور دیکھیں کہ ان کے احکامات پر عمل ہوا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ اختیارات کا نہیں بلکہ انتظامی امور کے متعلق پالیسی بنانا ہے اس کے لیے صاحب اقتدار لوگ صرف بیانات نہ دیں بلکہ ملبہ کسی اور پر ڈالنے کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز کی مرضی شامل کریں اور سارے لوگ اپنی اپنی تجاویز دیں تاکہ کراچی میں جو بھی مسئلہ ہو اس کو فوری حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گندگی پھیلانے والوں کا بھی سدباب کیا جائے، اگر صفائی نہیں کر سکتے تو پھر گندگی بھی نہ پھیلائیں۔