لیبیا : وزیر داخلہ پر سنگین الزام ، کام سے روک دیا گیا

225

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا کی حکومت کی صدارتی کونسل نے وزیر داخلہ فتحی علی باشا آغا کو کام سے روک دیا۔ کونسل نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ آغا کو 72 گھنٹوں کے اندر صدارتی کونسل کے سامنے انتظامی تحقیقات کے لیے پیش کیا جائے ۔ وزیر داخلہ سے مظاہروں کے لیے اجازت نامے جاری کرنے ، مظاہرین کے لیے مطلوب تحفظ فراہم کرنے اور مظاہروں سے متعلق بیانات جاری کرنے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ یہ مظاہرے گزشتہ ہفتے دارالحکومت طرابلس اور دیگر شہروں میں ہوئے تھے ۔ یاد رہے کہ لیبیا میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ وزیراعظم فائز سراج کی حکومت کے خلاف باغیوں کی حامی بیرونی طاقتوں کے ایما پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت انہیں ناکام بنانے کے لیے شرانگیزوں کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے۔ لیبیا آج کل بیرونی طاقتوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے، جہاں متحدہ عرب امارات، مصر، فرانس، امریکا اور یونان باغیوں کی مدد کررہے ہیں، جب کہ ترکی وزیراعظم فائز سراج کو عسکری، مادی اور سیاسی مدد فراہم کررہا ہے۔ مقامی فوج نے گزشتہ ماہ باغیوں کو سخت ہزیمت سے دوچار کرتے ہوئے ان سے وہ تمام علاقے واپس لے لیے تھے، جو باغیوں نے 14 ماہ کے دوران قبضے میں لیے تھے۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں کو باغی ملیشیا کی اس ناکامی پر سخت تشویش ہے، اس لیے سراج حکومت کے خلاف عوامی سطح پر محاذ کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے۔