ملت اسلامیہ کے بحرانوں کا حل اتحاد امت ہے ، لیاقت بلوچ

108

لاہور (نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ ملت اسلامیہ کے بحرانوں کا حل اتحاد امت ہے ۔میدان کربلا میں خاندان خاتم الانبیا، محسن انسانیتؐ کی حق کے پرچم کو بلند رکھنے کے لیے عظیم قربانیاں ہمیشہ سلامت رہیں گی۔شہادت حسین ؓ وقت کے طاغوتوں ، ظالموں ، جابروں کے خلاف استقامت سے کھڑے ہونے کا پیغا م ہے ۔ یزید کی حاکمیت غیر شرعی تھی اس نے طاقت اور خوف مسلط کر کے بیعت لی امام حسین ؓ کا سر تو قلم کردیا لیکن ان سے بیعت حاصل نہ کر سکا ۔ یوم عاشور پرامن ، اتحاد اور تقدس کو برقرا ر رکھا جائے ۔ اہل بیت اور خلفائے راشدین ؓ و صحابہ کرامؓ کے متوالے پاکستان میں نظام مصطفیٰؐ کے قیام کے لیے متحد ہو جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علما اور سماجی رہنمائوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ کورونا وبا نے اقتصادی تباہی پھیلائی اور اب ملک کے طول وعرض میں طوفانی بارشیں تباہی مچار ہی ہیں ۔ دونوں موقعوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام رہیں ۔ سرکاری ادارے کرپشن کی وجہ سے کھوکھلے ہوگئے ہیں ۔ بااختیار بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی مزید تباہی بڑھا رہی ہے ۔ حکومت مان لے کہ اس نے 2 سال میں وفاق اور صوبوں میں تلخیاں بڑھائیں ۔ اسٹیٹس کو توڑنے کے بجائے سیاسی اور اقتصادی تباہ کاری بڑھائی ، بد انتظامی اور نااہلی کی وجہ سے ریاستی نظام تباہ کر دیا، اب عمران خان کے سامنے 2راستے ہیں کہ اپنی نااہلی ، ناکامی اور نااہل ٹیم کی ناکامیاں تسلیم کرلیں اور اقتدار چھوڑ دیں یا ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی ترجیحات پر قومی قیادت ، ریاست کو متحد کریں۔ وزیراعظم عمران خان کا اسلوب حکمرانی عنقریب سب کے لیے ناقابل برداشت ہو جائے گا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ انتخابات وجمہوری پارلیمانی عمل کے باوجود عوام میں اعتماد نہیں اور اداروں کی ساکھ موجود نہیں ۔ انتخابات میں ریاستی مداخلت کے بجائے شفاف ، غیر جانبدارانہ آزادانہ انتخابات کے لیے قومی لائحہ عمل بنایا جائے ، بے اختیار اور حکومت و ریاست کے سامنے بے بس الیکشن کمیشن کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔