“اخوت و محبت کا گہوارہ”

133

 

حافظ کاشف شبیر
منتظم جمعیت طلبہ عربیہ آزاد کشمیر و گلگت بلتستان
جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان ملک بھر کے مدارس کے طلباء کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔جمعیت طلبہ عربیہ کی بنیاد ایک ایسے ماحول میں رکھی گئی تھی کہ جب مملکت خداداد پاکستان میں فرقہ واریت عروج پر تھی۔ مدارس کے طلبہ اور علماء ایک دوسرے پر فسق و فجور اور تکفیر کے فتوے لگانا ایک عام اور معمولی بات سمجھتے تھے، فرقہ واریت اور مسلک کہ بنیاد پر قتل و غارت گری ہوا کرتی تھی۔
ایسے ماحول میں جمعیت طلبہ عربیہ نے تمام مکاتب فکر کے طلباء اور علماء کو ایک لڑی میں پرویا۔
فروعی معاملات کو چھوڑ کر دین کے بڑے مقاصد کے لیے طلباء کو تیار کیا۔جمعیت طلبہ عربیہ کے افراد نے اخوت و محبت کی دعوت سے ہر ایک مدرسہ کو مزین کیا۔10محرم الحرام 1395ھجری کو اچھرہ لاہور میں چند طلباء سے شروع ہونے والا عزیمت کا یہ قافلہ اپنے ویژن ، اپنے دستور اور اپنی پہچان کے ساتھ کئی سنگ میل عبور کرتا ہوا اپنی منزل اور مقصد کی جانب رواں دواں ہے۔لاکھوں نوجوان تربیت سے لیس ہو کر معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
لاکھوں سابقین کی قربانیوں کی بدولت یہ امانت پورے وجود کے ساتھ آج ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔
آخر میں تمام ساتھیوں سے میری یہی گزارش ہے کہ قوم کی آمیدیں ہم سے وابستہ ہیں ہم ہی وہ لوگ ہیں جو قوم و ملت کے لئے آمید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں، ہمارا راستہ کھٹن ضرور ہے لیکن منزل بہت ہی قریب ہے اس لئے ہم نے پورے جوش و جزبے اور ولولے کے ساتھ آگے کی جانب بڑھنا ہےاور معاشرے میں اخوت و محبت کو عام کرنا۔
اخوت اس کو کہتے ہیں چبے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا پیرو جواں بیدار ہو جائے