پیغام یوم تاسیس محمد افضل

206

منتظم جمعیت طلبہ عربیہ سندھ
جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کو قائم ہوئے 47 سال گزر چکے ہیں میں کارکنان جمعیت کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس اتحاد و اتفاق کے قافلے میں جتنے سابقین نے قربانیاں دیں ان کی جرا ت و خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ ۱۰ محرم الحرام ۱۳۹۵ ھ بمطابق ۱۳ جنوری ۱۹۷۵ ء کو مختلف دینی درسگاہوں کے طلبہ نے جمعیت طلبہ عربیہ کی بنیاد رکھی ایسے حالات کہ ہر طرف فرقہ پرستی،مسلکی ،لسانی اور گروہی تعصبات کا چرچہ تھا طالبان علوم نبوت کی ذہن سازی امت کے وسیع تر مفاظ کے بجائے مسلک اور فرقہ کے مقاصد پیش نظر کی جاتی تھی فارغ التحصیل علماء کرام اپنے مسلک اور مکتب فکر کی چار دیواری میں مقید ہوکر رہ گئے تھے فروعی اختلافات میں شدت کے پہلو نے اصولی مسائل پر پردہ ڈال دیا تھا مساجد و مدارس اور ممبرو مہراب ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہے تھے قال اللہ و قال الرسول کی بات کرنے والے اخوت و محبت کے پیغام ربانی کو بھول کر اقتراق و انتشار کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہے تھے مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق تار عنکبوت بن چکا تھا اسے میں دینی مدارس کے چند نوجوان اس عزم کا اظہار کرتے ہیںکہ ہم ملک پاکستان کے دینی مدارس کے طلباء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں گے اور مذہبی لسانی گروہی اور علاقائی تعصبات سے بالا تر رکھتے ہوئے انما المؤمنون اخوۃ کا عملی مصداق بنائیں گے اس مقصد کیلئے طلباء مدارس کیلئے واضع نصب العین قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی اور بندگان خدا کی زندگی کی تعمیر کرتے ہوئے رضائے الہی کا حصول طے کیا گیا جمعیت طلبہ عربیہ نے عملی و فکری محاظ پر ہمیشہ مدارس عربیہ کے طلباء کی رہنمائی کی ہے اور مختلف علمی تربیتی اور فکری ورکشاپ اور پروگرامات سے ہزاروں طلبہ مستفید ہو چکے ہیں ہم جمعیت طلبہ عربیہ کے یوم تاسیس کے موقع پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس عزم کا از سرے نو اعادہ بھی کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ اپنے نصب العین اور دعوت کے فروغ کیلئے مزید ہمت جرأت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور طلباء مدارس کی علمی فکری تربیت اور رہنمائی کیلئے جدو جہد جاری رکھیں گے ۔