پیغام یوم تاسیس محمد حسین محنتی

83

امیر جماعت اسلامی سندھ
کو ملک مگیر اور دینی مدارس کے طلبہ کی تنظیم ،جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان اقامت دین مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ 10 محرم الحرام 1442ھ
کی جدو جہد کے اپنے 47سال مکمل کرکے 48 ویں سال میں داخل ہورہی ہے۔
الحمدللہ! دینی مدارس اور اسمیں پڑھنے والے لاکھوں طلبہ نے ہمیشہ اور ہر محاذپر اسلام و نظریہ پاکستان کی ترجمانی اور ملک کی نظریاتی وجغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی ہے ۔ جمعیت طلبہ عربیہ دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ تنظیموں سے اس لیے بھی ممتاز ہے کہ اس نے فرقہ و مسالک سے بالا تر ہوکر طلبہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے شوق کے ساتھ ساتھ اقامت دین کا حقیقی تصور ،اتحاد امت کا شعور اجا گر اور اغیار کی سازشوں سے آگاہ کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے ۔پاکستان اللہ کا انعام اور امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز ہے۔اسی چیز سے دشمن قوتیں خوفزدہ ہیں۔ کبھی وہ علاقائیت لسانی تو کبھی گروہ واریت کے نام پر یہاں انتشار اور اتحاد امت کو پارہ پارہ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ وطن عزیز سمیت پورا عالم اسلام آج ان مسائل سے دو چار ہے۔ اس صورتحال میں جمعیت طلبہ عربیہ کے کارکنان کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھتی جاتی ہیں کہ وہ اپنی پوری توجہ دینی علوم پر مرکوز رکھنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے اندر اتحاد ویگانگت اور اقامت دین کی جدو جہد کے لیے آگے بڑھ کر ہر وقت تیار رہنے کے لیے دن رات ایک کرنا ہوگا تاکہ اغیار کی تمام سازشین ناکام اور بانی بانی پاکستان محمد علی جناح ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔ جمعیت طلبہ عربیہ سندھ میں ایسے علماء کرام کی تیاری کا بھی اہتمام کرے جو کہ ایک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی کرن عوام کو دینی شعور کی آگاہی اور جہالت و جاہلانہ رسومات کے خاتمے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں کیوں کہ اسلامی پاکستان ہی خوشحالپاکستان کی ضمانت ہے۔جمعیت طلبہ عربیہ منبر و محراب کے پلیٹ فارم سے لوگوں کی تربیت، اصلاح معاشرہ اور دعوت دین کے ساتھ قرآن وسنت کے نظام کی برکات و خوبیوں سے آگاہ کرے کیونکہ ملک کی ترقی اور عوام کے تمام مسائل کا حل اسی میں ہی ہے۔ مضمر ہے۔