شہادت سیدنا حسینؓ کا عظیم پیغام

350

کربلا کے سانحہ میں شہادت حسینؓ اور خاندان پیغمبر اسلام کی شہادتیں تاریخ اسلامی کا اہم ترین واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ؐ پر دین کی تکمیل کر دی اور سلسلہ نبوت اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اسلام نے انسانیت کو ملوکیت کے بجائے خلافت کا بابرکت نظام عطا کیا۔ خلفائے راشدین اور خلافت کے سلسلے کے بعد خلافت موروثی بنیاد پر یزید کو منتقل کی گئی لیکن یزید کی خدمت عالم اسلام میں قبول نہ کی گئی۔ اہل کوفہ نے یزید کی حکمرانی سے تنگ آکر سیدنا حسینؓ کو خط لکھے اور وفود بھی ان کی خدمت میں بھیجے، ان لوگوں کے بے حد اصرار پر سیدنا حسین ؓ نے عراق کی طرف رخت سفر باندھا۔ اہل کوفہ کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور سیدنا حسینؓ کے تایا زاد بھائی اور بہنوئی سیدنا عبداللہ بن جعفر ؓ کی پختہ رائے تھی کہ وہ قابل اعتماد اور اپنے موقف پر قائم رہنے والے لوگ نہیں ہیں۔ نظام حکومت کے حالات، اسلامی، انسانی، سماجی قدریں اس قدر تلپٹ ہورہی تھیں کہ حق کے قیام کے لیے جدوجہد اور قیام کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ سیدنا حسینؓ جب عراق کی طرف روانہ ہوئے تو راستہ میں اس دور کا مشہور شاعر فرزوق ملا جو کوفہ سے آرہا تھا۔ وہ سیدنا حسینؓ کا بڑا مداح تھا اس سے آپ نے کوفہ کے حالات دریافت کیے تو اس نے صاف الفاظ میں کہا کہ ’’یعنی ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں مگر تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں‘‘۔ یہ ایسا مرحلہ تھا کہ سیدنا حسینؓ کے لیے واپسی ممکن نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کو ابھی اپنے دین کی حفاظت اور حق کی صاف شاہراہ کو قائم رکھنا مطلوب تھا اور یہ عظیم مشن رسول اللہ ؐ کے براہ راست تربیت یافتہ نواسۂ رسول کے علاوہ کون انجام دے سکتا تھا۔
۱۰محرم الحرام، یوم عاشورہ تاریخ اسلام کا المناک دن ہے۔ یزید نے اپنی ناجائز حکمرانی کی بقا کے لیے ظلم وجور، وحشت وسفاکیت کی انتہا کردی۔ سیدنا حسینؓ اپنے خاندان کے ساتھ حق کے تحفظ کے لیے شہادتوں کے بلند مقام پر فائز ہوئے اور قیامت تک کے لیے سربلند ہوگئے جبکہ ذلت و رسوائی یزید کے لیے دائمی مقدر بن گئی۔ شہیدان کربلا بظاہر قتل ہوگئے، ہماری نظروں میں وہ شہید ہوگئے لیکن عالم غیب میں وہ اعلیٰ زندگی سے سرفراز ہوگئے اور سراسر ایک حیات جاوداں پاگئے۔ پوری امت اس غم اور صدمہ کو اپنا غم اور صدمہ قرار دیتی ہے۔ شہادت حسین کے عظیم فلسفہ اور پیغام کو جاننے کی بہت کم کوشش کی جاتی ہے۔ خراج تحسین، عزاداری، غم واندوہ کا اظہار بھی فطری ہے لیکن اپنوں اور اغیار کی کوششوں کی وجہ سے امت میں اس عظیم سانحہ کو متنازع بنانے کی سازشیں جاری رہتی ہیں۔ یزید تو عبرت بن گیا لیکن یزیدیت کے پیروکار فرقہ پرستی اور فساد کو پھیلانے کا شیطانی کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ ماہ محرم میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ غم صرف اہلِ تشیع کا ہے جبکہ اکابرین اہل سنت، مفکرین، مفسرین کی آراء اور موقف کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد ؒؒ نے سیدنا حسینؓ کے حوالے سے اپنی کتاب شہید اعظم میں تحریر کیا ہے کہ:
بغیر کسی مبالغہ کے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثہ پر نسل انسانی کے اس قدر آنسو نہ بہے ہوں گے جس قدر اس حادثہ پر بہہ چکے ہیں۔ تیرہ سو برس کے اندر تیرہ سو محرم گزر چکے اور ہر محرم اس حادثہ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ سیدنا حسینؓ کے خونچکاں حادثہ سے کربلا میں جس قدر خون بہا تھا اس کے ایک ایک قطرے کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم کا ایک سیلاب بہا چکی ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے حُر کے لشکر کے سامنے سیدنا حسینؓ کا ایک خطبہ ان کی لفظوں میں تحریر کیا ہے۔ ’’اے لوگو اگر تم تقویٰ پر ہو اور حق دار کا حق پہچانو تو یہ خدا کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔ ہم اہل بیعت ان مدعیوں سے زیادہ حکومت کے حق دار ہیں۔ ان لوگوں کا کوئی حق نہیں، یہ تم پر ظلم وجور سے حکومت کرتے ہیں لیکن اگر تم ہمیں ناپسند کرو، ہمارا حق نہ پہچانو اور اب تمہاری رائے اس کے خلاف ہوگئی ہو جو تم نے مجھے اپنے خطوط میں لکھی اور قاصدوں کی زبانی پہنچائی تھی تو میں واپس چلے جانے کو بخوشی تیار ہوں‘‘۔ لیکن عہد الٰہی کو شکستہ کرنے والے، اللہ کے بندوں پر گناہ اور سرکشی سے حکومت کرنے والے شیطان کے پیروکار بن گئے۔ بدعہدی کرنے والے ہر حدسے گزر جانے کے لیے تیار تھے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اسلام کے متنوع موضوعات پر نقطہ نظر کے اظہار کا حق ادا کیا ہے۔ ان کے نزدیک اسلامی معاشرے میں سیدنا حسینؓ کا جو مقام تھا اس کے مقابلے میں یزید کی کسی پر نگاہ نہیں پڑسکتی تھی اور یزید مسلمانوں میں بالکل بے حیثیت تھا،
اگر مسلمانوں پر بظاہر مسلمان حکمران ہوں لیکن اس کے طور طریقے اسلامی تعلیمات سے انحراف کے ہوں، تو اس کے خلاف اقدام کے لیے ہمارے پاس واحد نمونہ سیدنا حسینؓ کی ذات ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: اگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو اور غیر اسلامی طریقے سے چلائی جارہی ہو تو مسلمانوں کو سخت الجھنیں پیش آتی ہیں۔ قوم مسلمان ہے، حکومت مسلمان کے ہاتھ میں ہے لیکن چلائی غیر اسلامی طریقے پر جارہی ہو تو اس حالت میں ایک مسلمان کیا کرے، اگر سیدنا حسینؓ نمونہ پیش نہ کرتے تو کوئی صورت رہنمائی کی نہ ہوتی۔
سید مودودیؒ نے یہ بھی رہنمائی دی اور تحریر کیا ہے کہ مسلمانوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ سیدنا حسینؓ کے سوا ہمارے پاس کوئی نمونہ نہیں۔
’’یہ سیدنا حسین ؓ کا نمونہ ہی تو ہے کہ جو مسلمانوں کی حکومت کے بگاڑ کے وقت رہنمائی کرتا ہے اگر اس نمونہ کو بھی بگاڑ دیا جائے تو نمونہ کہاں سے آئے گا۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ جگر گوشہ رسول ؐ کو قتل کردیا گیا اور ہم نوحہ خوانی کے لیے بیٹھے ہیں بلکہ نمونہ حاصل کرنے کا ہے‘‘۔
سیدنا علیؓ اور سیدنا حسینؓ کو اپنی زندگی میں مختلف حالات کا سامنا رہا۔ صرف ان ہستیوں کی یاد منانا کافی نہیں بلکہ اپنے اپنے معاشروں میں اس پیغام کو جاننا چاہیے کہ سیدنا علیؓ کا نمونہ کن حالات میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اورسیدنا حسینؓ کا نمونہ کن حالات میں ہمارے کام آتا ہے۔ انہی نمونوں کو سامنے رکھ کر امت کی اصلاح کا دروازہ کھلا رہے گا۔
سیدنا علی ؓ کا نمونہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اختلاف ہو تو کیا کرنا چاہیے اور سیدنا حسینؓ کا نمونہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی حالت بگڑ رہی ہو تو مسلمانوں کا کام تماشبین بن کر بیٹھنا نہیں بلکہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اصلاح کے لیے کھڑا ہوجائے خواہ وہ اکیلا ہی ہو اور خواہ نتیجہ کچھ بھی نکلے۔
مولانا سید مودودی ؒ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ سیدنا حسین ؓ کی عظیم قربانی کا پیغام جانیں اور سبق حاصل کریں۔ فقط رنج وغم کا اظہار نہیں بلکہ سیدنا حسینؓ اور ان کے خاندان کی عظیم قربانی کے مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھا جائے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ہر بار لکھا ہے کہ یزید کی ولی عہدی اسلامی معاشرے میں ایک بہت بڑے انحراف کی بنیاد تھی۔ اللہ کی بادشاہی کی نفی اور انسانی بادشاہت کا آغاز تھا۔ اسی خرابی کا انجام کار نتیجہ بہت ہی المناک برآمد ہوا۔ سیدنا حسینؓ نے سراسر ایک دینی کام کیا اسی لیے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر جان دی۔ بقول شاعر
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا