حلال فوڈ کے شعبے میں پاکستانی برآمدات کے امکانات

290

مسلمانوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ چاہے وہ اپنے ملک میں ہوں یا دیار غیر میں، اُن میں کتنی بھی بُرائیاں، بداعمالیاں اور بدکاریاں ہوں لیکن جب کھانے کی میز پر بیٹھتے ہیں تو حلال ڈشوں کی طرف ہی دیکھتے ہیں اور غیر مسلم ممالک میں ہوں تو شاپنگ مال میں گھنٹوں لگاتے ہیں اور حلال فوڈ کا لیبل تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو جاپان اعلیٰ تعلیم کے لیے گیا تو وہ حلال گوشت کی خریداری کے لیے میلوں سفر کیا کرتا تھا۔ اسی طرح اس پر مختلف لطیفے بھی ہمارے معاشرے میں چلتے رہتے ہیں کہ ایک مسلمان گوروں کے ملک میں ہر غلط کام کرلیتا ہے مگر کھانا حلال ہی کھاتا ہے۔ پچھلے دنوں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی جانب سے ایک آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع ’’پاکستان میں حلال صنعت: مسائل اور امکانات‘‘ جس میں یہ بحث کی گئی کہ دنیا بھر میں حلال اشیا خصوصاً خوراک و مشروبات کی طلب و تجارت بڑھ رہی ہے وہ مسلمان جو غیر مسلم ممالک میں رہائش پزیر ہیں اُن کی طلب پورا کرنے کے لیے باہر سے حلال فوڈ درآمد کیا جاتا ہے اور اسی طرح عرب ممالک بھی حلال اشیا بیرونِ ممالک ہی سے درآمد کرتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر دنیا بھر میں حلال اشیا کی تجارت کا حجم 3 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ حلال اشیا کی پیداوار، تیاری اور برآمد میں غیر مسلم ممالک آگے ہیں اور بہت تھوڑا سا حصہ مسلم ممالک کا ہے جن میں ملائیشیا، پاکستان اور ترکی شامل ہیں جب کہ پاکستان جس کا ڈیری، پولٹری، پھل اور گوشت کی پیداوار میں عالمی درجہ بندی میں بہت آگے ہے اور اپنی اہم جغرافیائی پوزیشن کے باعث کوالٹی، سرٹیفکیٹس اور پیکنگ کو بہتر بنا کر اس عالمی تجارت میں بہت آگے جاسکتا ہے۔
پاکستان ڈیری کی مصنوعات مثلاً دودھ، دہی، پنیر وغیرہ میں دنیا بھر میں چوتھی پوزیشن پر ہے اور سالانہ 50 ارب لیٹر سے زائد پیدا کرتا ہے، جانوروں (Live Stock) میں آٹھویں پوزیشن پر ہے جس میں گائے، بھینس، بھیڑ اور اونٹ شامل ہیں اس کا پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 11 فی صد حصہ ہے اور تقریباً 20 فی صد آبادی روزگار اور گزر بسر کے لیے مویشیوں پر ہی انحصار کرتی ہے۔ اسی طرح بیف (Beef) کی پیداوار میں پاکستان 14 ویں پوزیشن پر ہے لیکن یہ شعبہ زیادہ تر بغیر کسی ضابطے اور قاعدے کے قصائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ حلال ہی میں پورٹ قاسم کے پاس ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ مذبح خانہ قائم کیا گیا ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں ان کی تعداد کو بڑھنا چاہیے۔ پولٹری بھی ایک زرعی صنعت (agro-based) ہے جس میں برائیلر مرغی، انڈے اور بڑی مرغیاں شامل ہیں۔ سالانہ برائیلر مرغی کی پیداوار سو ارب ہے اور دنیا میں پاکستان کا اس پیداوار میں دسواں نمبر ہے۔ اس میں لاتعداد چھوٹے اور بڑے کاروباری گروپ شامل ہیں اور مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 1000 ارب روپے ہے۔ پولٹری کا شعبہ 15 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کررہا ہے اور یہ ایک نسبتاً منظم شعبہ ہے جس میں کوالٹی اور معیار پر توجہ دی جاتی ہے۔ حکومت کی طرف سے اس شعبے کو کچھ آسانیاں اور مراعات فراہم کی جائیں تو صرف اس کی برآمدات 500 ملین ڈالر تک جاسکتی ہیں۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا حلال فوڈ کی تجارت میں غیر مسلم ممالک آگے ہیں جن میں پہلا نمبر برازیل، دوسرا انڈیا، تیسرا امریکا، چوتھا چین اور پانچواں آسٹریلیا ہے۔ اسلامی ممالک مثلاً ملائیشیا، پاکستان اور ترکی بہت پیچھے ہیں۔ پاکستانی حکومت کی اعانت اور نجی شعبہ کی محنت اور کارکردگی کی بنیاد پر ہم اس عالمی تجارت میں مناسب جگہ بناسکتے ہیں۔ اس میں پہلا قدم فوڈ بزنس میں حصہ لینے والے کاروباری حضرات اور کمپنیوں کو اس فیلڈ کی واقفیت کرانا ہوگی۔ اس سلسلے میں ٹریڈ ڈویولپمنٹ تھارٹی آف پاکستان (TDAP) کی ذمے داری ہے کہ حلال فوڈ ایکسپورٹ کی معلومات فراہم کرانے کے لیے ٹریننگ سیشن اور ورکشاپ کرائے جائیں اور اس بزنس کے تقاضوں سے آگاہ کیا جائے۔ جہاں تک فنانسنگ کا معاملہ ہے اس میں سمیڈا (SMEDA) کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے یہ ادارہ بنیادی طور پر چھوٹے اور درمیانی سائز کے کاروباری اداروں کو تکنیکی انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ہے۔ حلال فوڈ ایکسپورٹس میں کوالٹی اور سرٹیفکیشن کی بڑی اہمیت ہے۔ پاکستان میں حلال فوڈ کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے کئی کمپنیاں موجود ہیں۔ اُن کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی ادارہ پاکستان حلال فوڈ اتھارٹی جس کے ایم ڈی کا تقرر ہوچکا ہے اس پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
اگر حلال فوڈ کے شعبے میں پاکستانی برآمدات بڑھتی ہیں تو اس سے پاکستان کو زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا اور ہزاروں افراد کو روزگار بھی ملے گا اور جہاں جہاں پاکستانی حلال فوڈ پہنچے گا وہاں پاکستان کا نام اونچا ہوگا۔