قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہﷺ

222

 

وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی اْسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اِن کا گھر ہو گا یہ ہے سزا اِس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے۔ وہاں یہ کافر کہیں گے کہ ’’اے ہمارے رب، ذرا ہمیں دکھا دے اْن جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں‘‘۔ جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اْن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ’’نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اْس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (سورۃحٰم السجدہ:28تا30)

ابوالدرداء نے کہا: میں نے رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں ، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا‘‘۔ (سنن ابن ماجہ)