دہشت گردوں کی مالی معاونت ‘جماعت الدعو ۃ کے3رہنمائوں کو سزا

72

لاہور(نمائندہ جسارت)لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی)نے جماعت الدعوۃکے3مرکزی رہنمائوں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے2رہنمائوں کو مجموعی طورپر ساڑھے16برس جب کہ ایک کو ڈیڑھ برس کی سزا سنادی۔صوبائی دارالحکومت کی عدالت میں جج اعجاز احمد بٹر نے جماعت الدعوۃ کے3رہنمائوںکے خلاف کیس کی سماعت کی، جس کے بعد فیصلہ جاری کیاگیا۔عدالت نے 2 جولائی 2017 ء کو درج کیے گئے مقدمہ نمبر 19/91 کا ٹرائل مکمل کرکے فیصلہ سنایا۔اے ٹی سی نے فیصلہ سناتے ہوئے جماعت الدعو ۃ کے رہنما حافظ عبدالسلام اور پروفیسر ظفر اقبال کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 ء کی سیکشن 11 ایف (6) کے تحت ڈیڑھ سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ عاید کیا۔ساتھ ہی انہیں اے ٹی سی ایکٹ 1997 ء کے سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 آئی (2) (بی) کے تحت 5 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عاید کیا۔اس کے علاوہ ان دونوں رہنمائوں کو اے ٹی سی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 ایچ کے تحت 5 سال کی سزا دی گئی جبکہ 50 ہزار جرمانہ عاید کیا گیا۔اے ٹی سی عدالت نے ان دونوں رہنمائوں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 ء کے سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 جے کے تحت مزید 5 سال کی سزا اور 5 ہزار جرمانہ عاید کیا۔یوں ان دونوں رہنمائوں کو مختلف سیکشن کے تحت مجموعی طور پر ساڑھے 16 سال قید اور ایک لاکھ 70 ہزار روپے جرمانہ عاید کیا۔مزید برآں عدالت نے جماعت الدعو ۃ کے تیسرے رہنما عبدالرحمن مکی کو اے ٹی سی ایکٹ کے سیکشن 11 ایف (6) کے تحت ڈیڑھ سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران محکمہ انسداد دہشت گردی نے 10 سے زاید گواہوں کو پیش کیا جبکہ جماعت الدعوۃ کی طرف سے نصیر الدین نیئر اور محمد عمران گل ایڈووکیٹ نے گواہوں کے بیانات پر جرح کی۔یاد رہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)نے سال 2019 کے دوران لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد، ساہیوال اور سردگودھا کے تھانوں میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور دیگر رہنمائوں کے خلاف 23 ایف آئی آرز درج کی تھیں۔سی ڈی ٹی کی جانب سے ان پر مدارس اور مساجد کی زمینوں کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔