آئندہ مقابلہ جماعت اسلامی اور مافیاز کے درمیان ہوگا، سینیٹر سراج الحق

340

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہےکہ آئندہ مقابلہ جماعت اسلامی اور مافیاز کے درمیان ہوگا، 72 سالوں سے ملک پر مافیاز کا قبضہ ہے،حکومت کوئی بھی ہو اسے چلاتا مافیا ہے،مافیاز ہر حکومت میں اپنے مفادات پورے کرتے ہیں، مخصوص ٹولے نے عوام کی رائے اور پولنگ اسٹیشنز کو یرغمال بنا رکھا ہے، عوام بھوک، افلاس، مہنگائی اور بے روز گاری سے لڑتے ہیں اور حکمران اقتدار کے مزے اڑاتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ثمر باغ تحصیل منڈا کے ذمہ داران کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نےکہا کہ دنیا آگے کو جارہی ہے اور ہمارے ہاں ترقی کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہے،ظالم جاگیر داروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کے مسلط کردہ اس نظام میں غریبوں کیلئے کچھ نہیں،عوام کو ظلم و جبر کے اس استحصالی نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حضرت امام حسین ؓ نے جان قربان کرکے ظلم و جبر کے نظام کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیا،آج طاغوتی قوتوں کے خلاف حسینی ؑ جذبہ سے اٹھنے کی ضرورت ہے، جب تک ملک میں نظام مصطفی ﷺ کا نفاذ نہیں ہوتا عوام کے مسائل ختم نہیں ہونگے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آنے والے الیکشن میں جماعت اسلامی مافیاز کا مقابلہ کرے گی اور انہیں الیکشن پر حاوی ہونے یا دولت کے بل بوتے پر الیکشن کو یرغمال بنانے کاموقع نہیں دے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو تعلیم ،صحت ،روز گار جیسے مسائل کی دلدل میں دھکیلنے والا یہی مافیا ہے جس نے قومی وسائل کی لوٹ مار اور کرپشن سے اپنے لئے محلات بنائے اور بزنس ایمپائرز کھڑی کیں مگر یہ بے حس اور ظالم ٹولہ غریب کے منہ سے روٹی کاآخری نوالہ بھی چھین لینا چاہتا ہے۔

امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کو مایوسی اور نا امیدی کے اندھیروں سے صرف جماعت اسلامی نکال سکتی ہے،ہم ملک میں قرآن وسنت کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کررہے ہیں،ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور بالادستی قائم ہوجائے تو وسائل کی لوٹ مار اور کرپشن کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔

سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ احتساب کے نام پر ہر حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا ،سابقہ اور موجودہ حکمران پارٹیوں میں وہی لوگ اورخاندان بیٹھے ہیںجو ملک و قوم کو اس حالت تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے احتساب کیلئے بڑی جدوجہد کی ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ قومی دولت لوٹنے والوں سے ایک ایک پائی وصول کی جائے اور غربت اور مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف دیا جائے،موجودہ حکومت نے احتساب کے بڑے بلند و بانگ دعوے کئے تھے مگر دوسال گزرنے کے باوجود کسی ایک مجرم کو سزا نہیں ہوئی اور جن لوگوں کا احتساب ہونا چاہئے تھا وہ خو دحکومت میں بیٹھے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پانامہ کے 436ملزموں کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ان ملزموں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو موجودہ حکومت میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب عوام حکومت اور نیب کے دعوﺅں پرکان دھرنے کو تیار نہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے ،متاثرین کو سیلابی پانی سے محفوظ مقامات پر منتقل اورانہیں کھانا اور دیگر ضروری سامان مہیاکیاجائے اور بیماریوں سے بچاﺅ کیلئے ضروری ادویات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ الخدمت فاﺅنڈیشن کے رضا کاروں اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے مصیبت کی ہر گھڑی میں ہمیشہ قوم کا ساتھ دیا ہے ۔جماعت اسلامی اب بھی متاثرین کے ساتھ ہے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔