حب ڈیم کے اسپیل وال کھولنے سے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کاخدشہ

308

کراچی (اسٹاف رپورٹر)بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔اب تک دو افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔حب ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی سطح پر پہنچنے کے بعد اسپل والز کھول دیئے گئے ہیں۔مسلسل بارشوں کے باعث قلات، بارکھان، ڈھاڈر اور دیگر علاقوں میں کئی کچے مکانات مہندم ہوگئے۔

حب، خضدار اور دیگر علاقوں میں دیوار اور بجلی گرنے سے دو افراد جاں بحق اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ہے۔دریائے ناڑی اور دریائے لہڑی میں درمیانے درجے کے سیلاب کے باعث محلقہ علاقوں کے شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی شروع کردی گئی ہے۔

ضلع بولان میں بارشوں کے باعث آنے والے ریلے سے بی بی نانی پل دوبارہ ٹوٹ گیا جس کے باعث کئی گھنٹوں تک ٹریفک معطل رہی۔ این ایچ اے کے عملے نے پل کی مرمت کرکے ہلکی ٹریفک بحال کردی۔

دوسری جانب حب ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی حد پر پہنچنے کے بعد بلوچستان حکومت نے اسپیل وال کھول دیے ہیں جس نے اطراف میں آباد علاقوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر نظر امدادی ٹیمیں کو ملحقہ علاقوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔