آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا کورونا وائرس کی مد میں کیے جانے والے سرکاری اخراجات کے آڈٹ کا فیصلہ

224

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کورونا وائرس کی مد میں کئے جانے والے حکومتی و سرکاری اخراجات کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے کہا ہے کہ کوویڈ19 سے متعلقہ اخراجات کا آڈٹ اس لئے بھی فوری طور پر ضروری ہو گیا ہے کہ اس میں حکومت،میڈیا اور عوام سمیت تمام شراکت داروں کی دلچسپی ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا کورونا وائرس کی بیماری پر ہونے والے سرکاری اخراجات درست استعمال ہو رہے ہیں؟

آڈیٹر جنرل آفس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ فروری 2020 میں جب سے پاکستان میں کورونا وائرس ظاہر ہوا ہے، مالی معاملات شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کی حکومتی حکمت عملی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مقننہ اور انتظامیہ کی بر وقت آگاہی کے لئے محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کورونا اخراجات سے متعلق مختصر اور بروقت رپورٹس تیار کرنے کا منصوبہ طے کیا ہے۔

فیصلہ کیا گیا ہے کہ اشیا اور خدمات کی خریداری، اشتہارات اشیا کا ذخیرہ،امدادی رقومات، قرنطینہ مراکز،اسپتالوں کی طرف سے دی جانے والی خدمات سرکاری مراکز صحت، ٹیسٹنگ، راشن کی خریداری کے اخراجات کے بشمول کورونا سے متعلقہ تمام ممکنہ اخراجات کی تفصیلی جانچ پڑتال ہوگی۔

ذیلی دفاتر ایف اے اوز تفصیلی طور پر ہر متعلقہ ادارے، سرکاری اسپتال اور ان مقامات کا آڈٹ کریں گے۔جمعرات کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر کی زیر صدارت اجلاس میں ذیلی دفاتر بشمول ڈائریکٹر جنرل موسمی تبدیلی اور ماحولیات ڈائریکٹر جنرل سماجی تحفظ نے شرکت کی اور کرونا سے متعلقہ عمدہ آڈٹ رپوٹس کی تیاری کے لئے باہمی تعاون کی حکمت علمی پر زور دیا ہے۔